مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے‘ مغرب دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی مکمل حمایت کرے:برطانوی ارکان پارلیمنٹ

لندن (اے پی پی) برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے سرگرم رہنمائوں نے امریکہ اور مغرب پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کھلے دل سے حمایت کریں اور اس کی سماجی‘ اقتصادی و سیاسی ترقی کیلئے فراخدلانہ معاونت کے ذریعے درپیش چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کریں‘ مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا کے امن کے لئے انتہائی ناگزیر ہے اور اسے کسی بھی صورت پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ فورم کے زیر اہتمام ’’پاکستان چوراہے پر‘‘ کے عنوان سے دارالعوام میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ برنارڈ جینکن ،پروفیسر رچرڈ بونی،لارڈ نذیر احمد، انسانی حقوق کیلئے سرگرم براڈ ایڈمز،پروفیسر اناتوئی لیوان اور سینیئر صحافی محمد ضیاء الدین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈیفنس سلیکٹ کمیٹی کے رکن برنارڈ جینکن نے فاٹا،مغربی سرحد اورداخلی طورپر پاکستان کو درپیش متعدد مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے مستقل حل پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ ممبئی حملوں کے پیش نظر پاکستان کو ایک جامع انسداد دہشت گردی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر اور دہشت گردی پر پاکستان اور بھارت کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔لارڈ نذیراحمد نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نیٹواور ایساف کو ملاکر ان سے زیادہ فوجیوں کی قربانی دی ہے ۔ وار سٹڈیز کنگز کالج لندن کے چیئرمین پروفیسر لیون نے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی طرف سے بھارت پر کافی دبائو نہ ڈالنے پر تنقید کی ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس موقع پر ایک تحریک بھی منظور کی گئی جس میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے اور تمام سیاسی اسیروں کی رہائی اور وہاں رائج کالے قوانین کو منسوخ کروانے کے لئے کردار ادا کرے۔