سٹیٹ بنک نے ’’کچرا‘‘ زرمبادلہ بیرون ملک لیجانے کے حوالے سے قوانین مزید سخت کر دیئے

سٹیٹ بنک نے ’’کچرا‘‘ زرمبادلہ بیرون ملک لیجانے کے حوالے سے قوانین مزید سخت کر دیئے

لاہور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے امریکی ڈالر، برطانوی پائونڈ، یورو اور یو اے ای درھم کے سوا دیگر غیرملکی کرنسیاں (کچرا زرمبادلہ) بیرون ملک لے جانے کے سلسلے میں قوانین مزید سخت کرتے ہوئے تمام ایکسچینج کمپنیوں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق ایکسچینج کمپنیاں اس بات کو یقینی بنانے کی پابند ہوں گی کہ ان کی طرف سے غیرملکی کرنسی لے جانے والے تمام افراد لازمی طور پر ایکسچینج کمپنی کے مستقل ملازمین ہوں۔ اس ضمن میں تمام ایکسچینج کمپنیوں کے سربراہان کو گذشتہ روز جاری کئے جانے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ایکسچینج کمپنیوں کیلئے یہ لازمی ہو گا کہ وہ غیرملکی ادارے (overseas entity) کے ساتھ لین دین (deal) کو ایکسپورٹ کنسائمنٹ (جو صرف ایکسچینج کمپنیوں کے ملازمین ہی ساتھ لیکر جا سکیں گے) سے قبل حتمی شکل دیں گی۔ اس کے علاوہ منظور شدہ غیرملکی کرنسیاں بیرون ملک لے جانے کی ہر درخواست کے ساتھ سسٹم کے تحت تیار ہونے والا ڈیل ٹکٹ (جس میں وصول کنندہ (consignee) کا نام، پتہ، رابطے کی تفصیلات، رقم، ایکسچینج ریٹ وغیرہ کی تفصیلات موجود ہوں) لازماً منسلک ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ امریکی ڈالر‘ برطانوی پاؤنڈ‘ یورو اور یو اے ای درہم کے سوا دیگر تمام کرنسیوں کو فاریکس مارکیٹ میں کچرا کہا جاتا ہے۔