پنجاب: مائیکرو چپس سے نگرانی کی خبر پر فورتھ شیڈول میں شامل 600 افراد روپوش

لندن (بی بی سی اردو) حکام کا کہنا ہے انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں شامل افراد میں سے 6 سو سے زیادہ ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد روپوش ہوگئے ہیں کہ حکومت انکی نگرانی کیلئے جدید آلات کا سہارا لینے والی ہے۔ فورتھ شیڈول میں ایسے افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو سماج دشمن سرگرمیوں اور فرقہ وارانہ تنازعات میں ملوث رہے ہوں اور انہیں باقاعدگی سے اپنی نقل و حرکت کی اطلاع مقامی تھانے کو دینا ہوتی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق روپوش ہونے والے تمام افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہی ہے۔ انکے بارے میں متعلقہ تھانوں کو بھی معلومات نہیں کہ وہ کہاں پر ہیں۔ ایسے افراد کا سراغ لگانے کیلئے مقامی تھانوں، سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پنجاب حکومت نے ایسے افراد کی نگرانی مائیکرو چپس کے ذریعے کرنے کیلئے ترکی سے ٹیکنالوجی لی تھی اور انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول کے سیکشن ای ڈبل ون میں شامل متعدد ایسے افراد کو کڑے پہنائے گئے ہیں تاکہ ان کی نقل حرکت کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔ اہلکار کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ان افراد کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ تلاش پر مامور ٹیموں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ انکے اہلخانہ کے علاوہ ان افراد سے بھی رابطہ کر کے معلومات حاصل کریں جنہوں نے ان افراد کی ضمانت دی تھی۔ اسکے علاوہ ان جماعتوں کے قائدین سے بھی معلومات حاصل کی جائیں گی جن کے ساتھ ایسے افراد کی وابستگی ہے۔ اسلام آباد راولپنڈی میں فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی تعداد 200 کے قریب ہے۔ اکثریت کا ریکارڈ تھانوں میں موجود ہی نہیں کہ وہ کس وقت شہر سے باہر گئے۔ ایسے افراد کی زیادہ تعداد جھنگ اور فیصل آباد سے ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی ایسے افراد کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ جن افراد کو انسداد دہشت گردی کے اس قانون کے تحت پابند بنایا گیا ہے، ان میں سے اکثریت کا تعلق مختلف مذہبی جماعتوں سے ہے۔ ضلعی رابطہ افسر ہر تین ماہ کے بعد شیڈول فورتھ کے تحت رکھے گئے افراد کی فہرست کا جائزہ لینے کا پابند ہے کہ آیا یہ افراد کہیں سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں ہیں۔ ضلعی رابطہ افسر خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں اس فہرست میں کمی یا اضافہ کرنے کا مجاز بھی ہے۔ اہلکار کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت مائیکرو چپس کے ذریعے ایسے افراد کی نگرانی کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جانا ہے اس منصوبے کا آغاز پنجاب سے کیا گیا ہے تاہم پہلے مرحلے میں ہی اس پر عملدرآمد میں مشکلات درپیش ہیں۔