امریکہ میں پولیس کو کیمرے سے بچائو کی تربیت کی ضرورت ہے: رپورٹ

نیو یارک (بی بی سی ) امریکہ میں پولیس کو کیمرے سے بچنے کی ایک سخت تربیت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ساؤتھ کیرولینا میں ایک کیمرے نے پولیس والے کی نوکری تو لے ہی لی اور اسے جیل بھی پہنچا دیا کتنی بڑی ناانصافی ہے یہ۔پولیس والوں کا تو کام ہی ہے گولی چلانا ورنہ اتنی عمدہ پستول اور بندوقیں کس کام آئیں گی؟ ہاتھ میں بندوق ہو، دنادن فائرنگ تبھی تو رعب پڑتا ہے پولیس کا۔پولیس نے گاڑی چلانے والے ایک سیاہ فام شخص کو روکا۔ جرات تو دیکھیں اس شخص کی کہ وہ امریکہ میں رہتا ہے، سیاہ فام ہے، گاڑی چلا رہا ہے اور اوپر سے گاڑی کی پچھلی لائٹ ٹوٹی ہوئی تھی۔، اتنا بڑا جرم؟جانباز پولیس والے نے وردی کی قسم کھائی اور اس سیاہ فام شخص کے پیچھے دوڑ پڑا اور بھاگتے بھاگتے آٹھ گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں۔ اتنا بڑا جرم کر کے اگر وہ بچ جاتا تو؟میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبردار زیادہ شور نہ مچائیں اس کی وجہ سے بیچارے پولیس والے نے ہلاک شدہ سیاہ فام شخص کے پاس جا کر اپنا ٹیزرگن بھی گرا دیا تاکہ یہ کہا جا سکے کہ وہ ٹیزر گن چھین کر فرار ہو رہا تھا۔اسے کہتے ہیں پروفیشنل پولیس، انکاؤنٹر ایسا کرو کہ دنیا بھر کی پولیس اس سے سبق حاصل کرے اور اس پر عمل بھی کرے لیکن اس ساری محنت پر ایک فون کے کیمرے نے پانی پھیر دیا۔ ایک چھوٹی سی چیز نے دنیا کی سب سے طاقتور پولیس کودھول چٹا دی۔ ملازمت تو گئی ہی، 30 برس کی جیل یا کیا پتہ پھانسی بھی ہوسکتی ہے۔آخر یہی صاحب تھے جن پر سنہ 2013 میں بھی ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام عائد ہوا تھا لیکن اس وقت کسی کیمرے نیانھیں ریکارڈ نہیں کیا تھا اور وہ با عزت بری ہو گئے تھے۔اس بار بھی اگر یہ کیمرہ نہ ہوتا تو لوگ چیختے چلاتے ،نعرے بازی کرتے، تھوڑی بہت توڑ پھوڑ بھی کرتے اور پھر بیان آتا کہ جیوری نے انھیں بے قصور پایا ہے۔کچھ دنوں پہلے ہونے والے ایک جائزے کے مطابق 60 فیصد سفید فاما امریکیوں نے کہا کہ انھیں یہاں کی پولیس پر پورا اعتماد ہے، وہ کبھی قانون نہیں توڑتی، کسی کو ستاتی نہیں اور سب کے ساتھ محبت سے پیش آتی ہے۔یہ کیمرے اب کہیں ان بھلے لوگوں کی فکر کو بھی مکدّر نہ کردیں۔یہ وہ افراد ہیں جنھیں سیاہ فام قوم کا بہت خیال ہے کیونکہ جب بھی ایک سیاہ فام شخص پولیس کی گولی سے مرتا ہے تو یہ بیچارے سب کی توجہ اصل مسئلے کی جانب کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی لوگ کہتے ہے کہ ایک سفید فام پولیس نے اگر کالے آدمی کو مار دیا تو آخر اتنی ہائے توبہ کیوں، سیاہ فام افراد کی گولیوں سے تو خود سیاہ فام کہیں زیادہ مرتے ہیں اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔اب تو اس کیمرے کی کامیابی نے ہر پولیس والے کی وردی پر ایک کیمرہ لگانے کے مطالبے کو اور تیز کر دیا ہے۔کسی نے تو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ہر سیاہ فام شخص یا پھر وہ جو ذرا سابھی سفید فام امریکی سے الگ نظر آتا ہو وہ گھر سے باہرنکلنے سے پہلے گلے میں ایک کیمرہ ضرور لٹکا لے۔ایک میگزین نے لکھا ہے کہ امریکہ کو اب اپنے آپ پر فخر ہوناچاہیے کیونکہ جب تک کوئی بھولا بھٹکا کہیں سے گزرتے ہوئے دانستہ یا انجانے میں اس طرح کے واقعے کو اپنے کیمرے میں قیدکرے گا کم سے کم اس وقت تک تو انصاف کا سر بلند رہیگا۔کوئی بڑی بات نہیں کہ مستقبل میں ایسے ملبوسات اور جوتیفروخت ہونے لگیں جو کیمرے سے لیس ہوں، ٹیگ لائن ہوگا ’ کیمرے لگاؤ، پولیس بھگاؤ‘لیکن ایسے میں بچاری  پولیس کام کیسے کرے گی؟۔میری سمجھ سے تو اب پولیس والوں کو اپنے حقوق کے لیے ایک نیا قانون بنوانے کی ضرورت ہے جس کے تحت عام جگہوں پر کیمرے کیاستعمال پر پابندی ہو، پارکوں اور گلیوں میں بھی پابندی ہو۔ اس کے لیے کوشش کرنے میں حرج نہیں ہے، عام مقامات پر سگریٹ پینے پر پابندی لگ سکتی ہے تو کیمرے پر کیوں نہیں؟