بوسنیا، سرب فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے آٹھ ہزار افراد کی یاد میں ایک تقریب ، سات سو ستانوے افراد کی شناخت کے بعد ان کی تدفین کی گئی۔

بوسنیا، سرب فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے آٹھ ہزار افراد کی یاد میں ایک تقریب ، سات سو ستانوے افراد کی شناخت کے بعد ان کی تدفین کی گئی۔

بوسنیا ہرزیگوینا کے سینکڑوں غمزدہ خاندانوں نے پندرہ سال قبل ہلاک کیے جانے والے سات سو ستانوے افراد کی تدفین میں شرکت کی۔ گیارہ جولائی انیس سو پچانوے کو سرب فوج نے بوسنیا میں سربرانیکا پرحملہ کرکے آٹھ ہزارسے زائد مسلمانوں کو قتل کردیا تھا، انہیں بعد میں اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔ ہرسال گیارہ جولائی کو نئی دریافت شدہ اجتماعی قبروں سے ملنے والے افراد کو شناخت کے بعد دفن کیا جاتا ہے ۔ تدفین کے موقع پر مرنے والوں کے ورثاء نے قتل کے ذمہ دار سرب جنرل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جو پندرہ سال سے روپوش ہے۔ دوسری جانب جرمنی میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے سولہ ہزارسے زائد جوتوں کا ایک ڈھیربنا کراقوام متحدہ کے خلاف ایک مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں یو این کے الفاظ کا لوہے کا ماڈل رکھا گیا جس میں جوتے بھرکے اقوام متحدہ کو شرم دلائی گئی۔ مظاہرے میں شریک لوگوں کا مطالبہ تھا کہ اقوام متحدہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کی جان بچانے میں ناکامی کہ ذمہ داری قبول کرے۔