ایران میں نظام مخالف احتجاجی تحریک ، 8000 افراد گرفتار

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
ایران میں نظام مخالف احتجاجی تحریک ، 8000 افراد گرفتار

ایران کے مختلف شہروں میں نظام کے خلاف احتجاجی تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں نوجوان پیش پیش ہیں جبکہ ایرانی فورسز نے بھی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاو¿ن جار ی رکھا ہوا ہے اور اب تک کم سے کم آٹھ ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کےمطابق ایرانی نظام گرفتار مظاہرین کی تعداد کو خفیہ رکھنے کی کوشش کررہا ہے لیکن بعض ارکان پارلیمان اور سیاست دان بڑے پیمانے پر ہونے والی اس پکڑ دھکڑ کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے پارلیمان کے ایک رکن محمود صادقی نے کہا تھا کہ اب تک کل 3700 سے زیادہ افراد کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔دریں اثناءایرانی مزاحمتی تحریک نے تمام شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ گرفتار افراد اور ان کے خاندان کی حمایت کریں اور ان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلیں ۔اس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس ، سلامتی کونسل ، یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کی حکومتوں کے علاوہ امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گرفتار مظاہرین کی رہائی کے لیے ایرانی حکومت پر دباو ڈالیں اور ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کریں ۔اس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے مختلف شہروں میں قیدیوں سے ناروا سلوک اور دوران حراست تشدد سے متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات منظرعام پر آئی ہیں۔اس نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کریں.