شامی حکومت فاقے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے‘ مہاجرین کتے‘ بلیاں کھانے پر مجبور ہیں : ایمنسٹی انٹرنیشنل

شامی حکومت فاقے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے‘ مہاجرین کتے‘ بلیاں کھانے پر مجبور ہیں : ایمنسٹی انٹرنیشنل

لندن+ نیویارک (اے این این+نمائندہ خصوصی) انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت فاقے کو شہریوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے، مہاجرین کتے بلیاں کھانے پر مجبور ہیں۔ دمشق میں حکومتی فورسز کے ہاتھوں محصور یرموک خیمہ بستی میں اب تک 128افراد ہلاک ہو چکے ہیں، شامی حکومت امدادی اداروں کو فوری طور پر کیمپ میں جانے کی اجازت دے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ میں ڈائریکٹر فلپ لوتھر نے کہا کہ یرموک کی خیمہ بستی میں 17سے 20ہزار فلسطینی اور شامی مہاجرین مقیم ہیں اور اس علاقے میں بدترین لڑائیاں ہوئی ہیں۔ لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر خود خوراک تلاش کریں جس کی وجہ سے انہیں سنائپرز کی گولی کا نشانہ بننے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یرموک اپریل 2013سے بجلی کی سہولت سے محروم ہے، دوائوں کی عدم فراہمی کے باعث زیادہ تر ہسپتال بند ہو چکے ہیں۔ شام کی فوج فاقے کو شہریوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے، خاندانوں کے تکلیف دہ بیانات کے مطابق وہ بلیاں اور کتے کھانے پر مجبور ہوئے اور خوراک کی تلاش میں جانے والوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ کیمپ کے رہائشیوں نے ایمنٹسی کو بتایا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ سے سبزیاں اور پھل نہیں کھائے۔ یرموک کیمپ کے 60فیصد لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔