ڈونلڈ ٹرمپ کو شرمسار کرنے والا مواد نہیں، روس کی تردید

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
ڈونلڈ ٹرمپ کو شرمسار کرنے والا مواد نہیں، روس کی تردید

ماسکو :کریملن نے روسی خفیہ اداروں پر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق شرمسار کرنے والے مواد حاصل کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے۔ کریملن کے ترجمان نے اِن الزامات کو من گھڑت اور تعلقات خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ جھوٹی خبرپوری طرح سے سیاسی طور پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہے۔امریکی ذرائع ابلا غ میں کہا جارہا تھا کہ روس کے پاس نو منتخب صدر کے طوائفوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں معلومات ہیں اور مزید یہ کہ ٹرمپ کی صدارتی مہم کا ماسکو کے ساتھ خفیہ بات چیت کا سلسلہ بھی تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی مذمت کی ہی۔ بغیر کسی سیاق و سباق کے نو منتخب صدر نے ٹویٹ کیا: 'جھوٹی خبر، یہ پوری طرح سے سیاسی طور پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ پچھلے ہفتے امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ روس نے امریکہ میں صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے ہیکنگ کی مہم چلائی۔انٹیلی جینس اداروں کی رپورٹ میں یہ دعوے بھی شامل تھے کہ ٹرمپ کے ماتحت لوگ روس کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیکنگ میں ملوث تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک وکیل مائیکل کوہن نے، جن کا نام رپورٹ میں شامل ہے، اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ اگست اور ستمبر 2016 میں کریملن کے نمائندوں سے ہیکنگ کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے پراگ گئے تھے۔روس نے کہا ہے کہ ہیکنگ کے امریکی الزامات 'وِچ ہنٹ' کی یاد دلاتے ہیں۔دوسری جانب امریکی میڈیا میں یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ روسی خفیہ اداروں نے مسٹرٹرمپ کو ذاتی طور پر زیر کرنے والا مواد حاصل کر لیا ہے جس میں ان کے کاروباری معملات کے علاوہ ان کی عیاشیوں کی ویڈیو بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کہ مطابق یہ ویڈیوز کسی سیاستدان یا عوامی شخصیت کی شہرت کوضرورت پڑنے پر نقصان پہنچانے کے لیے جمع کی گئی تھیں۔حالیہ ہفتوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ کے شدید دبا میں رہے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ روس نے انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی ای میلز ہیک کی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہلیری کلنٹن کے خلاف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں انتخابی نتائج کو موڑنے کا حکم کریملن سے دیا گیا تھا۔لیکن ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نتائج سے واضح طور پر متفق نظر نہیں آئے اور انھوں نے روس کے ساتھ اچھے تعلقات کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں 'احمق' کہا ہے۔