پاکستان سے مل کر چیلنجوں سے نمٹیں گے، دہشت گردی کے خاتمے، تعلقات کی بہتری کے لئے اقدامات جاری رہیں گے: افغان صدر

پاکستان سے مل کر چیلنجوں سے نمٹیں گے، دہشت گردی کے خاتمے، تعلقات کی بہتری کے لئے اقدامات جاری رہیں گے: افغان صدر

کابل (ایجنسیاں) پاکستان کے پارلیمانی وفد اور افغان صدر اشرف غنی نے اتفاق کیا ہے کہ مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات جاری رکھے گا اور مل کر درپیش چیلنجوں سے نمٹیں گے تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے جبکہ پاکستانی ارکان پارلیمنٹ کے وفد نے کہا ہے کہ پاکستان سمجھ چکا ہے کہ اچھے بُرے طالبان میں کوئی فرق نہیں، دہشت گردی دونوں ملکوں ہی نہیں بلکہ پورے خطہ اور دنیا بھر کے لئے خطرہ ہے۔ افغان صدر سے پاکستانی پارلیمنٹریز نے صدارتی محل میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، علاقہ کی سکیورٹی صورتحال، افغان مہاجرین کے امور اور دیگر معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان صدر نے کہا کہ ہم مل کر ہی درپیش مشکلات سے باہر نکل سکتے ہیں۔ افغان حکومت پاکستان سے عوامی رابطے بڑھانے اور ہر سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھے گا۔ افغانستان کی نئی حکومت نے تمام رکاوٹیں دور کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستانی وفد نے بھی مشترکہ مسائل کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے زور دیا کہ دونوں ملکوں کو تعلقات کے فروغ کے امکانات کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ افغانستان میں نئی حکومت بننے سے میسر آنیوالا موقع ضائع نہیں کیا جانا چاہئے، دونوں ممالک کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے آئے ہوئے سیاستدانوں کے تین رکنی وفد کا استقبال کیا۔ وفد میں محمود خان اچکزئی، آفتاب احمد شیر پائو اور افراسیاب خٹک شامل تھے۔ اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان کی حکومت پاکستان کے ساتھ مشاورت کا عمل اور مشترکہ کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وقت درکار ہے۔