معاملات پہلے بھی بھارت ہی چلاتا ہے‘ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج سے کشمیریوں کو فرق نہیں پڑتا : حریت قائدین

 سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق، بزرگ حریت رہنما علی گیلانی اور دیگر آزادی پسند رہنماﺅں نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کو نان ایشو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے اس اقدام سے کشمیریوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد کٹھ پتلی انتظامیہ ہو یا پھر گورنر راج، مقبوضہ علاقے کے معاملات بھارت ہی چلاتا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میرواعظ عمرفاروق نے سرینگر میں ایک انٹرویو میں کہا کہ گورنر راج سے کشمیر یوں کو کوئی فرق نہیں پڑتاکیوںکہ بھارت آج تک مقبوضہ کشمیر پر اپنی کٹھ پتلی انتظامیہ کے ذریعے حکومت کرتا آیا ہے اوراب وہ گورنر کے ذریعے یہاں کے معاملات چلائے گا۔ انہوںنے کہا کہ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے اقدامات نہیں کرتا، جموںوکشمیر میں حکومتوں کی تبدیلی ایک بے سود مشق ہے۔ علی گیلانی جو طبی معائنے کی غرض سے نئی دلی میں ہیں نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ خواہ مقبوضہ علاقے میں گورنر راج ہو یا پھر نام نہاد جمہوری حکومت، مقبوضہ علاقے کے معاملات بھارت خود چلاتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے جموںوکشمیر پر طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دینے سے انکار کر رہا ہے۔ علی گیلانی نے کہا کہ ڈھونگ انتخابات کے ذریعے کشمیریوں پر نام نہاد انتظامیہ مسلط کرنا یا پھر گورنر راج کا نفاذ ، یہ سب کشمیریوں کے لئے بے معنی ہے۔ جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ کے چیئرمین نعیم خان نے سرینگر میں جاری بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں کٹھ پتلی انتظامیہ ہو یا پھر گورنر راج ، یہاں کے معاملات بھارتی وزارت داخلہ ہی چلاتی ہے۔ دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ کشمیریوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔
حریت قائدین