’’انسانی حقوق کا عالمی دن‘‘ مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ‘ خاموش دھرنے: یاسین ملک سمیت 20 گرفتار

’’انسانی حقوق کا عالمی دن‘‘ مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ‘ خاموش دھرنے: یاسین ملک سمیت 20 گرفتار

سرینگر (اے ایف پی) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے عالمی دن پر مظاہرے‘ خاموش دھرنے اور سیمینارز ہوئے جس میں بھارتی فوج کے مظالم‘ جبری حراستوں‘ گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے حوالے سے حقائق سامنے لائے گئے۔ ادھر فوج نے یاسین ملک سمیت  20 افراد کو حراست میں لے لیا۔ لاپتہ افراد  کے لواحقین نے یوم سیاہ منایا۔ شرکاء نے بینر پکڑ رکھے تھے جن پر تحریر تھا ’’ہمارے پیارے کہاں ہیں‘‘ ادھر 3 حریت پسند رہنماؤں کو بدستور نظربند رکھا گیا ہے۔  دریں اثناء پولیس اور فوج نے سرینگر میں کئی جلوس روک دیئے۔ سکیورٹی سخت کر کے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ حریت رہنمائوں اور سول سوسائٹی نے مقبوضہ کشمیر میں  گمنام قبروں ، گمشدگیوں اور  انسانی حقوق  کی دیگر  خلاف ورزیوں  پر  احتجاج  کرتے ہوئے  تحقیقات  کیلئے آزادانہ  کمیشن  قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے  اور کہا ہے کہ  دنیا کے  منصف  اور  سلامتی کے ضامن  کشمیر میں  بہتے ہوئے  خون کی آواز سنیں ۔میر واعظ عمر فاروق نے کہا    مقبوضہ کشمیر میں لاگو کالے  قانون آفسپا  کے ذریعے بھارتی فوجیوں  کو قتل عام کی کھلی  چھوٹ دی گئی ہے  آئے روز نوجوان کا محاورائے  عدالت قتل کیا جارہا ہے  انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری حقوق کی پامالیوں کو روکنے کیلئے بھارت پردبائو ڈالے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان شاخ کے زیراہتمام عالمی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر کنوینئر یوسف نسیم کی قیادت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مطاہرہ کیا گیا۔مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج کی طرف سے جاری ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں رائج کالے قوانین جوکہ انسانی حقوق کی منافی ہیں‘ فوری طور پر منسوخ کئے جائیں۔ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے اور مقبوضہ کشمیر میں گمنام اجتماعی قبروں کے معاملے کو سنجیدگی سے لے کیونکہ یہ مسئلہ براہ راست ان ہزاروں لاپتہ افراد سے منسلک ہے جو بھارتی فوج کے زیر حراست لاپتہ ہوئے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل‘ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق‘ اقوام متحدہ کے کونسل برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال اور اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں محمود احمد ساغر‘ سید فیض نقشبندی‘ شیخ محمد یعقوب‘ منظورالحق‘ عبداللہ گیلانی‘ محمد شفیع ڈار اور نذیر احمد کرنائی نے شرکت کی۔  بھارتی سکیورٹی فورسز نے چیئرمین  حریت کانفرنس سید علی گیلانی  کو ایک بار پھر پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا ۔سید علی گیلانی نے  پریس کانفرنس پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  تین سال تک میری نظر بندی کا  یہ جواز پیش کیا جاتا رہا  کہ میں جہاں   جاتا ہوں  وہاں امن  و قانون کا مسئلہ  پیدا ہوجاتا ہے   اور حالات خراب  ہوجاتے ہیں لیکن  عوامی جلسوں نے  اس مفروضے کو  یکسر غلط ثابت  کردیا۔ ریلی میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے میڈیا ایڈوائزر شوکت جاوید نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آئے روز بے گناہ کشمیری مرد و خواتین بوڑھوں بچوں کی قتل غارت گری بے نقاب کرنے کے لیئے اقوام متحدہ کے مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مشتمل عالمی سطح کا فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دیا جائے ۔کشمیر میڈیا ریسرچ سیکشن نے گزشتہ  24 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم سے متعلق رپورٹ پیش کردی۔ بھارتی فوج نے 93 ہزار978 افراد کو شہید کیا جبکہ   10 ہزار 84 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ 7014 کو دوران حراست قتل کیا گیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ  24 سال کے دوران قابض بھارتی فوجیوں نے 10ہزار 84 کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی، ایک لاکھ 5ہزار 992 عمارتوں کو تباہ کیا گیا۔24 سال کے دوران بھارتی پولیس اور فوجیوں نے 8ہزار سے زائد افراد کو حراست کے دوران لاپتہ کیا۔