مقبوضہ بیت المقدس : اسرائیلی انتظامیہ کے حکم پر مسلمانوں کی 200 قبریں مسمار

مقبوضہ بیت المقدس (اے ایف پی) مقبوضہ بیت المقدس کے وسطی علاقے میں میونسپل انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے مسلمانوں کی 200 قبریں مسمار کر دیں۔ الاقصیٰ فا¶نڈیشن کے رکن محمود ابوعطا نے بتایا کہ مذکورہ قبروں کی حال ہی میں مرمت کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی عدالت نے میونسپل انتظامیہ کی کارروائی روکنے کے لئے پٹیشن مسترد کر دی جس کے بعد بلڈوزروں کے ذریعے 200 سے زائد قبریں مسمار کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ایک یہودی گروپ نے قبرستان کے قریب میوزیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اسرائیلی حکام نے فلسطینی مسلمانوں کے حق میں ایک اور انتہا پسندانہ فیصلہ کرتے ہوئے رمضان میں مغربی کنارے کے پچاس سال سے کم عمر شہریوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور القدس آنے والوں کے لیے خصوصی اجازت نامہ پیش کرنا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکام نے پچاس سال سے کم عمر کسی بھی فلسطینی کے لیے مسجد میں داخل ہونے کے لیے خصوصی اجازت نامہ ضروری قرار دیا ہے جبکہ عورتوں کے لیے مسجد میں داخل ہونے کی عمر پینتالیس سال رکھی گئی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس فیصلے کے مطابق اسرائیلی قابض فوج عید تک فلسطینیوں کو مسجد داخل ہونے سے روکتی رہے گی۔ واضح رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے کس بھی مزاحمتی کارروائی سے خوفزدہ ہو کر اسرائیلی فوج ہر سال رمضان میں مقبوضہ بیت المقدس میں پھیل جاتی ہے جبکہ اسرائیلی پولیس اہلکار اور سرحدی سکیورٹی گارڈز بھی فوج کی قوت میں اضافے کے لیے علاقے میں موجود ہوتے ہیں۔