پنڈتوں کیلئے علیحدہ بستیوں کا بھارتی منصوبہ‘ مقبوضہ کشمیر میں آج احتجاجی مظاہرے‘ کل ہڑتال کی جائیگی

پنڈتوں کیلئے علیحدہ بستیوں کا بھارتی منصوبہ‘ مقبوضہ کشمیر میں آج احتجاجی مظاہرے‘ کل ہڑتال کی جائیگی

سرینگر (ایجنسیاں) میر واعظ عمر فاروق ،سید علی گیلانی،شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنمائوں او رتنظیموں نے مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندو پنڈتوں کے لیے علیحدہ بستیاں بسانے کے بھارتی اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے مذموم منصوبے کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے  آ ج (جمعہ کو) احتجاجی مظاہروں اور ہفتہ کو مکمل ہڑتال کی کال دی ہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی صدارت میں سرینگر میں منعقدہ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں بھارتی منصوبے کو کشمیری عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پرتقسیم کرنیکی سازش قرارر دیتے ہوئے کہاکہ پنڈت کشمیری معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیںاورکشمیری عوام پنڈتوں کی مقبوضہ وادی میں واپسی کے ہرگز خلاف نہیں لیکن انہیں پہلے کی طرح مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے  بھارتی حکومت کے منصوبے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کل ( جمعہ کو) نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں اورہفتہ کومکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے ان تمام بلند بانگ دعوئوں سے ہوا نکل گئی ہے جو انہوں نے نام نہاد الیکشن سے پہلے اور پھر بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے وقت کئے تھے۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیاکہ کشمیری عوام پنڈتوں کیلئے کسی علیحدہ بستی کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر ی پنڈتوں کیلئے وادی میں علیحدہ کالونیاں بنانے کا ایک مذموم منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبریشن فرنٹ اس منصوبے کیخلاف نماز جمعہ کے بعد لال چوک سے احتجاجی جلوس نکالے گی اور گھنٹہ گھر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائیگاجبکہ ہفتے کو مقبوضہ علاقے میںمکمل ہڑتال کی جائے گی۔سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ،  مشتاق الاسلام ، شبیر احمد ڈار ، محمد یوسف نقاش اور محمد اقبال میر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت کاپنڈتوں کو علیحدہ بستیوں میں آباد کرناصیہونی طرز کا حربہ ہے۔  انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر جموں وکشمیر کی تقسیم ہرگز قبول نہیں اور اس طرح کے کسی بھی منصوبے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ٗڈیموکریٹک فریڈم پارٹی،مسلم لیگ، جماعت اسلامی ،مسلم کانفرنس ، دختران ملت، اسلامک پولیٹکل پارٹی ، محاذ آزادی، مسلم دینی محاذ،انجمن حمایت الاسلام اور سابق حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی اس مجوزہ منصوبے پر شدید تنقید کی ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں سمیت لبریشن فرنٹ ٗڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور دختران ملت نے کشمیری عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پرتقسیم کرنے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے ہفتہ کو ریاست بھر میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ مسلم لیگ نے سید علی گیلانی کی جانب سے ہفتہ کو دی گئی ہڑتال کال کی مکمل حمایت و تائید کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس دن مکمل ہڑتال کریں۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے مذکورہ منصوبے کوکشمیر مخالف ایجنڈا سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سے فرارہوئے پنڈتوں کے لئے مخصوص کالونیاں تعمیر کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ انہوں نے اس ضمن میں آئمہ کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کو اپنے خطبوں میں عوام کو ان سازشوں سے باخبر کریں۔ مسلم لیگ چیئرمین مشتاق الاسلام، چیئرمین مسلم کانفرنس شبیر احمد ڈا ر ، اسلامک پولیٹیکل پارٹی چیئرمین محمد یوسف نقاش اور محاذِ آزادی کے صدر محمد اقبال میر نے منصوبے کو کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ایک مشترکہ بیان میں اِن لیڈران نے کہا کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی آزادی پسند کسی بھی طور اجازت نہیں دیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں تمام آزادی پسند جماعتوں سے رابطہ کرکے ان سے مشاورت کی جائے گی اور عوام کو اس سازش کی جانکاری دینے اور مربوط لائحہ عمل کے تحت رائے عامہ کو ہموار کرکے عوامی تحریک شروع کریںگے۔ انجمن حمایت الاسلام کے سرپرست مولانا شوکت حسین کینگ اورصدر مولانا خورشید احمد قانون گو نے  اسے  ایک گہری سازش ہے،  مسلم دینی محاذ نے ٹائون شپ منصوبے کو فلسطین میں یہودی کالونیوں کی طرز پر ایک منصوبہ قرار دیا۔ نیشنل کانفرنس نے کہاہے کہ بھارتی  وزیر داخلہ کے فرمان کو من و عن تسلیم کرنا ،مفتی محمد سعید کے کمزور ترین وزیراعلیٰ ہونے کا کھلا ثبوت ہیں۔ انجینئر رشید نے مزیدکہا کہ کشمیری پنڈت کشمیری سماج کا ایک جزو لا ینفک ہیں لہذا انہیں مسلمانوں کو درپیش مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری سکیموں، مالی پیکیج اور دیگر مراعات کے حصول تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کے حوالے سے اسمبلی کو آگاہ کیا جائے۔  ادھر  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے سرینگر میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کر کے متعدد ملازمین کو زخمی اور ٹنگمرگ سے دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔  پولیس نے پر انکلیو سرینگر میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے اربن لوکل باڈیز ایمپلائیزیونائیٹڈ فورم کے ارکان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور متعدد کو گرفتار کر لیا ۔  ادھر بیسیوں اساتذہ کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب انہوںنے پریس انکلیو سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ اساتذہ اپنی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔