پاکستان 2015ء کے تعلیمی اہداف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا:یونیسکو

پاکستان 2015ء کے تعلیمی اہداف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا:یونیسکو

پیرس (اے ایف پی) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان، یمن اور سب صحارا کے افریقی ممالک 2015ء تک کے اپنے تعلیمی اہداف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ بین الحکومتی اداروں نے تیسری دنیا کے ممالک کو تعلیم کی شرح بڑھانے کا دبائو بڑھایا مگر یہ حکومتیں 15 سالہ ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔ 2000ء میں 164 ممالک نے یونیسکو کو 2015ء تک کے اندر تمام بچوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم یونیسکو کی تازہ رپورٹ کے مطابق کم تعداد میں ممالک نے یہ ہدف حاصل کیا ہے۔ کیوبا، کرغیزستان، منگولیا اور کئی یورپی ممالک نے تعلیم کا ہدف حاصل کرلیا ہے، صرف نصف کے قریب ممالک پرائمری ایجوکیشن کی فراہمی میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکووا نے کہا کہ ان 15 سالوں میں تعلیم کے حوالے سے بڑی تبدیلی آئی اور لاکھوں بچے سکولوں میں داخل ہوئے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت غریب بالخصوص بچیوں کو اپنی ترجیحات میں مقدم رکھیں۔ دنیا میں اب بھی 5.8 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور 10 کروڑ کے لگ بھگ بچے پرائمری تعلیم مکمل نہیں کرپاتے۔ صنعتی امتیاز میں کمی ہوئی مگر بچیوں کو اب بھی تعلیم کی جانب لانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ 2000ء کی ایجوکیشن کانفرنس میں ان ممالک کے نصف بڑوں کو بھی تعلیم کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا مگر ناخواندگی کی شرح 2000ء کے 18 فیصد کے مقابلے میں 2015ء میں کم ہوکر 14 فیصد تک آگئی ہے۔ 78.1 کروڑ ناخواندہ بڑے افراد میں سے دو تہائی خواتین ہیں۔ یہ رپورٹ جنوبی افریقہ میں یونیسکو کی ورلڈ ایجوکیشن فورم سے ایک ماہ قبل سامنے آئی ہے۔ اس فورم میں 2030ء کے تعلیمی اہداف مقرر کئے جائیں گے۔ یونیسکو کے مطابق 2030ء کے اہداف حاصل کرنے کیلئے عالمی برادری کو 22 ارب ڈالر کی اضافی رقم درکار ہوگی۔