امریکہ: بوسٹن میراتھن بم دھماکے کے ملزم پر 30 مقدمات میں فردجرم عائد

لندن (بی بی سی) امریکہ میں دو سال قبل بوسٹن میراتھن کی اختتامی لائن کے قریب بم نصب کرنے کے ملزم جوہر سارنیف کو 30 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ان پر ثابت ہونے والے الزامات کی سزا موت ہے۔ میساچوسٹس کی ایک جیوری اس بات کا فیصلہ کریگی کہ 21 سالہ جوہر سارنیف کو کیا سزا دی جائے۔ اپریل 2013ء میں نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ میں کیا جانیوالا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ ان دھماکوں میں 260 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے بہت سے لوگ اپنی ہاتھ پاؤں سے محروم ہوگئے تھے۔دھماکے کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر مجروں کی تلاش شروع کی اور اسکا انجام جوہر سارنیف کی گرفتاری اور اسکے بڑے بھائی تیمرلان کی موت پر ہوا۔جوہر کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس نے ان حملوں میں کردار تو ادا کیا تھا تاہم اس کے پیچھے ان کے بھائی کا ہاتھ تھا۔ اس کے بعد جوہر اور اسکے بھائی کی جانب سے فرار کی کوششوں کے دوران ہونیوالے حملوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔ مقدمے میں جوہر کو سزا کا اب زیادہ امکان ہے کیونکہ اس کے وکیل نے یہ حیران کن بیان دیا کہ جوہر نے بم حملوں میں حصہ لیا تھا۔ یہ اعتراف دفاع کا حصہ تھا جس کے تحت جوہر کے بڑے بھائی تیمرلان کو ان حملوں کا بڑا منصوبہ ساز قرار دینا تھا۔ استغاثہ کے مطابق دونوں بھائی مسلمان ممالک میں جاری جنگوں کی سزا امریکہ کو دینے کے اس منصوبے کے برابر کی سطح کے مجرم ہیں۔ دونوں بھائیوں کا تعلق چیچنیا سے ہے اور ان کا خاندان بم حملوں سے دس برس قبل امریکہ منتقل ہوا تھا۔