صدارتی الیکشن میں میری جیت ہوئی: عبداللہ عبداللہ‘ اوباما کا فون ‘ حامیوں کی کابل میں ریلی

صدارتی الیکشن میں میری جیت ہوئی: عبداللہ عبداللہ‘ اوباما کا فون ‘ حامیوں کی کابل میں ریلی

کابل، نئی دہلی (ثنا نیوز+ اے ایف پی+ اے پی پی) افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے دوسرے اور حتمی دور کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دھوکے باز حکومت کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے انتخابات میں اپنی کامیابی کا دعویٰ کر دیا ہے۔ کابل میں اپنے حامیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں انہیں منتخب کیا ہے اور وہ فاتح ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل میں بدعنوانی کے الزامات دہرائے۔ عبداللہ عبداللہ کا اعتراض مشکوک ٹرن آئوٹ پر ہے ان کے مطابق پہلے مرحلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔عبداللہ عبداللہ کے ہزاروں حامیوں نے کابل میں انتخابی نتائج کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور عبداللہ عبداللہ سے اپنی فتح کا اعلان کر کے متوازی حکومت کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان تنائو افغانستان میں بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے 12 سال بعد اقتدار سے علیحدگی اختیار کرنے والے صدر حامد کرزئی پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتخابی نتائج میں اشرف غنی کیلئے دھاندلی کرائی اور اسے عوامی فیصلے کے خلاف بغاوت سے تعبیر کیا۔ صدارتی الیکشن فراڈ تھا نتائج قبول نہیں، انہوں نے  دعویٰ کیا  کہ الیکشن تنازعہ حل کرنے کیلئے امریکی وزیرخارجہ جان کیری جمعہ کو افغانستان آ رہے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے جان کیری کے دورہ کابل پر تبصرے سے انکار کر دیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کو ٹیلی فون کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج حتمی نہیں، ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے، آپ فکر مند نہ ہوں۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے غیر حتمی اور ابتدائی نتائج میں اشرف غنی کی کامیابی کے بعد بھارت کو تشویش لاحق ہوئی ہے کہ آئندہ حکومت بھارت کی بجائے پاکستان کے زیادہ قریب ہو گی۔ افغانستان میں سابق بھارتی سفیر جے یانت پراساد نے کہا  افغانستان میں جو بھی حکومت آئے بھارت اس کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے تاہم الیکشن کا نتیجہ ایسا آنا چاہئے جو لوگوں کیلئے قابل قبول ہو۔