برطانوی سیاستدانوں کی بچوں سے جنسی زیادتیاں، تاریخی انکوائری کا اعلان

لندن (این این آئی) برطانیہ کی خاتون وزیر داخلہ ٹیریسا مے نے 1980ء کی دہائی میں ملک کے سرکردہ سیاستدانوں کی طرف سے بچوں سے مبینہ جنسی زیادتیوں اور بعد ازاں ان پر پردہ ڈالے جانے کے واقعات کی تاریخی انکوائری کا اعلان کر دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دارلعوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ مے نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس بارے میں بھی جامع چھان بین کرائی جائے گی کہ 80 کے عشرے میں بچوں سے جنسی زیادتیوں کے الزامات اور ان کی تفتیش کے حوالے سے عوامی اداروں اور ان کے اہلکاروں نے کس طرح کا رویہ اپنائے رکھا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات کی مکمل تحقیقات کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور انہیں سزائیں دلوائی جا سکیں، ٹیریسا مے نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ جس کثیرالجہتی اور جامع انکوائری کا اعلان انہوں نے کیا ہے، اس کی سربراہی پیٹر وینلیس کریں گے جوبرطانیہ میں بچوں سے بدسلوکی کے خلاف قومی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ اس انکوائری کے نتائج آٹھ سے لے کر آئندہ دس ہفتوں تک سامنے آ جائیں گے۔ اس کے علاوہ پیٹر وینلیس برطانوی وزارت داخلہ کے اس اندرونی جائزے کا بھی نئے سرے سے تنقیدی جائزہ لیں گے، جس میں ہوم آفس نے اپنے طور پر سرکردہ سیاسی شخصیات کی طرف سے بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات سے متعلق حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی تھی۔