اسرائیل کی بموں کی بارش جاری‘ 17 فلسطینی شہید‘ 100 زخمی: زمینی کارروائی کی تیاری

اسرائیل کی بموں کی بارش جاری‘ 17 فلسطینی شہید‘ 100 زخمی: زمینی کارروائی کی تیاری

غزہ، جدہ (نیوزایجنسیاں) اسرائیلی حکومت نے حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر غزہ میں بمباری کرتے ہوئے مزید 17 نہتے فلسطینی شہریوں کو شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد افراد کو زخمی کر دیا ہے۔ صہیونی فوج کی جانب سے حماس کے خلاف ’’پروٹیکٹیو ایج‘‘ کے نام سے فضائی آپریشن جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی بمباری سے تین روز میں جام شہادت نوش کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 24 ہو گئی۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد حماس کی جانب سے اسرائیل میں راکٹ حملوں کو روکنا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں حملوں میں مزید اضافہ کیا جائیگا۔ اے پی پی کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی برادری کو اسرائیلی فضائی بمباری کا نوٹس لینے اور حملے بند کرانے کی اپیل کی ہے۔ منگل کو خبررساں ادارے وفا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے محمود عباس نے اسرائیل کو کہا ہے کہ فلسطین پر فضائی حملے فوری طور پر بند کیے جائیں یہ حملے بلاجواز ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل پیٹر لیمر نے کہا ہے کہ غزہ کی جانب فورسز کو زمینی کارروائی کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ 40ہزار ریزرو فوجی طلب کر لیے۔ اے پی اے کے مطابق غزہ کے بحران کے خاتمے کیلئے عرب لیگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں جبکہ امریکہ نے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر زمینی حملے سمیت تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے غزہ کی پٹی میں 40 اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جانب سے اسرائیل پر 40 راکٹ فائر کئے گئے۔ اس سے پہلے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں 9 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔