اصلاحاتی پروگرام: لشکر گاہ کا حراستی مرکز ماڈل جیل میں بدل گیا

اصلاحاتی پروگرام: لشکر گاہ کا حراستی مرکز ماڈل جیل میں بدل گیا

کابل (بی بی سی) ایک وقت تھا جب افغانستان میں جیلوں کا نظام بہت خراب تھا اور قید خانوں میں تشدد کے واقعات اور شرپسند عناصر کی بھرمار تھی لیکن جیلوں کی اصلاحات کے آغاز سے صوبہ ہلمند میں لشکر گاہ کی جیل ایک ماڈل جیل میں تبدیل ہو گئی ہے۔ لشکرگاہ کی جیل اب افغانستان کی ان دوسری جیلوں کی طرح نہیں ہے جہاں سے اذیت اور تشدد کی بو آتی ہو۔ کچھ وقت پہلے ہی کی بات ہے کہ اس جیل پر کنٹرول ایک مشکل کام تھا۔ یہاں جیل حکام کا ہی قتل ہو جاتا تھا اور جیل میں کسی غیر ملکی کا داخل ہونا تو تقریباً ناممکن تھا۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور اس قید خانے کا مقصد اب طالبان سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی محض سزا دینا نہیں بلکہ ان کی اصلاح بھی ہے۔