پاکستان‘ بھارت مذاکرات کی امیدیں دم توڑ گئیں‘ حافظ سعید کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں: پاکستانی ہائی کمشنر

پاکستان‘ بھارت مذاکرات کی امیدیں دم توڑ گئیں‘ حافظ سعید کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں: پاکستانی ہائی کمشنر

نئی دہلی (کے پی آئی( بھارت میں تعینات  پاکستانی ہائی کمشنر  عبدالباسط نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ جموں کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان مرکزی مسئلہ ہے جبکہ دہشت گردی سمیت دیگر معاملات کشمیر سے جڑے ذیلی مسائل ہیں۔ پاکستانی حکومت کے پاس حافظ سعید کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ عبدالرحمان لکھوی کے بارے میں قانون اپنا کام کر رہا ہے۔ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی خارجہ سیکرٹری کے حالیہ دورہ پاکستان کے باوجود دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کی بحالی کا کوئی فوری امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ عبدالباسط نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگست 2014 میں جب بھارت نے خارجہ سیکرٹری مذاکرات منسوخ کئے سے اب تک دو طرفہ بات چیت کی بحالی کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ سارک یاترا کے دوران بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر کے دورہ پاکستان سے مذاکرات کو لیکر جو امیدیں کی جا رہی تھیں وہ خود ہی دم توڑ گئیں۔ عبدالباسط نے یہ بات زور دیکر کہی کہ اگر چہ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاہم اس کی فوری کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حریت رہنمائوں سے بات چیت کوئی نیا اقدام نہیں تھا اور پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری رہنمائوں کے  ساتھ بات کرتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا اگست کے بعد بھی میں نے کئی بار حریت  رہنماوںسے ملاقات کی لیکن اس پر بھارت کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستانی ہائی کمشنر نے یہ بات دہرائی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر کے مسئلے کو بنیادی تنازعہ کی حیثیت حاصل ہے۔