مغربی بنگال میں پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ مالک، اہلیہ سمیت 11 ہلاک

نئی دہلی (بی بی سی) بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مدناپور میں پٹاخے اور آتش بازی کا سامان بنانے والی ایک غیر قانونی فیکٹری میں دھماکے میںمالک اسکی بیوی سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ مغربی مدناپور میں ایک گاو¿ں میں پیش آیا۔ دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 3 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ بھارتی گھوش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے عمارت کے مالک رنجن میتی کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ فیکٹری کا مالک رام میتی اور اس کی بیوی دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ جائے حادثہ پر جمعرات کی صبح پہنچنے والے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ کے قریب جسمانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں جبکہ گاو¿ں والوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد پولیس کے اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ اس فیکٹری کے پاس لائسنس نہیں تھا اور پولیس کو اس غیر قانونی فیکٹری کے بارے میں معلومات تھیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ فیکٹری کا مالک کے ریاست کی حکمراں پارٹی سے نزدیکیوں کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ تاہم حکمراں پارٹی ترنمول کانگریس نے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ صرف غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری تھی لیکن اپوزیشن نے اس معاملے کی مرکز سے تفتیش کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کی پٹاخہ فیکٹریوں میں اس طرح کے حادثے ماضی میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔