برطانیہ میں طلبہ کو شدت پسندی سے بچانے کیلئے اساتذہ کی تربیت شروع

لندن (آن لائن) برطانیہ میں ایک یونین نے سکولوں کے پریشان ہیڈ ٹیچروں کی تربیت کے لیے خصوصی سیمینار منعقد کرانے کی پیشکش کی ہے تاکہ سکول کے بچوں کو شدت پسند بننے سے بچایا جا سکے۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق یہ سیمینار سکول اینڈ کالج لیڈرز ایسوسی ایشن کی طرف سے برطانیہ کے بڑے شہروں میں منعقد ہوں گے۔ اس برس ہونے والی قانون سازی کے تحت برطانیہ کے سکولوں اور کالجوں کو پابند کیاگیا ہے کہ وہ بچوں کو شدت پسند یا ریڈیکل بننے سے روکیں۔یہ سیمینار برمنگھم کے ویورلی سکول کے سربراہ کمال حنیف کی قیادت میں ہوں گے جو اسلام اور برطانوی شہریت کے ماہر بھی ہیں۔یونین کا کہنا ہے کہ اس کی پیشکش کا مقصد سکول کے سینیئر رہنماو¿ں کی مدد کرنا اور انھیں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی ایکٹ 2015 کے تحت تعلیمی اداروں پر لازم ہے کہ وہ نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف راغب ہونے سے روکیں۔جون اور جولائی میں ہونے والے یہ سیمینار سکول اور کالج کے سربراہان کو ان کے فرائض کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کریں اور انھیں عملی مدد اور مشورے دیں گے۔ ان کا مقصد سکولوں میں تنوع اور مساوات کی فضا قائم رکھنا لیکن ساتھ ساتھ اساتذہ کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ سوشل میڈیا کو کس طرح نوجوانوں کو انتہا پسند نظریات سے بچانے کے لئے تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان سیمیناروں میں کمال حنیف کے ساتھ انسدادِ انتہا پسندی کی مہم چلانے والی سارہ خان بھی ہوں گی جو انتہا پسندی اور حقوقِ نسواں کی تنظیم ’انسپائر‘ کی شریک بانی ہیں۔ ان کے ساتھ سکول اینڈ کالج لیڈرز ایسوسی ایشن کی پارلیمانی سپیشلسٹ اینا کول بھی ہوں گی۔
اساتذہ تربیت