باغی لڑائی روک دیں‘ یمن میں 5 دن کی جنگ بندی کو تیار ہیں: سعوی عرب

باغی لڑائی روک دیں‘ یمن میں 5 دن کی جنگ بندی کو تیار ہیں: سعوی عرب

ریاض(نوائے وقت رپورٹ + رائٹر + اے ایف پی + ایجنسیاں )سعودی عرب نے یمن میں پانچ دن کی جنگ بندی کی مشروط پیشکش اور 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا  اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ  یمن میں شہریوں کو امداد کی فراہمی کے لیے پانچ دن کی جنگ بندی پر تیار ہیں تاہم حوثی باغیوں کو بھی لڑائی بند کرنا ہوگی،معاہدے کے کارآمد ہونے کا انحصار حوثیوں اور ایران کی اس رضامندی پر ہو گا کہ وہ جنگ بندی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر نے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ  اگر حوثی باغی اور ان کے اتحادی اپنے حملے روک دیں تو جنگ بندی کے ساتھ ہی یمن میں امداد کی فراہمی جلد شروع ہو جائے گی۔ جنگ بندی کا دورانیہ قابل تجدید ہو گا۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ حوثی باغی اور سعودی عرب جنگ بندی کے نافذ العمل ہونے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔حوثی باغیوں اور ان کے حمایتیوں  کو معاہدے کی شرائط پر راضی کرنے کے لیے سفارت کاری کے لیے یہ کافی وقت ہو گا۔امدادی  تنظیموں کو بھی یمن میں خوراک اور ادویات پہنچانے کی بہترین عملی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے بھی وقت کی ضرورت ہے۔ جنگ بندی کا مطلب ہو گا کہ بمباری نہیں ہو گی، فائرنگ نہیں ہو گی ۔ فوجوں کی جگہ تبدیل نہیں ہو گی۔ سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر نے اصرار کیا کہ معاہدے کے کارآمد ہونے کا انحصار حوثیوں اور ایران کی اس رضامندی پر ہو گا کہ وہ جنگ بندی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اس ضمن میں مزید معلومات پیرس میں  ہونے والے اجلاس میں دی جائیں گی جس میں عرب ممالک کے وزرائے  خارجہ بھی شریک ہوں گے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ یمن میں لاکھوں افراد کو خوراک اور ادویات کی فوری ضرورت ہے۔اس سے پہلے گذشتہ روز بدھ کو یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ پر زور دیا تھا کہ وہ ملک میں حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے غیر ملکی افواج کو زمینی مداخلت کی منظوری دے۔اقوام متحدہ میں یمن کے مشن نے  اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ارکان کے نام خط میں زمینی افواج کی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا  ’عالمی برادری یمن بالخصوص عدن اور طیعز کو حوثی باغیوں سے بچانے کے لیے زمینی افواج بھیجے۔‘یمن کی حکومت کا سلامتی کونسل کے ارکان کے نام خط ملک میں غیر ملکی افواج کی زمینی مداخلت کا قانونی جواز مہیا کرے گا۔سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کے اتحاد نے جب 26 مارچ کو یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں اس وقت بھی یمنی حکومت نے اقوام متحدہ سے اسی طرح کی منظوری طلب کی تھی۔یمنی حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ نہتے یمنی باشندوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ریکارڈ اکٹھا کرے۔یمنی حکومت نے کہا کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے گی کہ حوثی باغیوں کو جنگی جرائم کے ارتکاب کی سزا مل سکے۔اقوامِ متحدہ میں یمن کے مندوب خالد الایمانی کی جانب سے سلامتی کونسل کے 15 ارکان کو بھیجے گئے خط میں ملک کے جنوبی شہر عدن کی بندرگاہ کے قریب کشتی پر حوثی باغیوں کی گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد کے ہلاک ہونے کا ذکر کیاگیا ہے ۔ یمن میں فورسز کی فضائی کارروائی میں القاعدہ لیڈڑ ناصر بن علی انسائی ہلاک ہوگیا ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یمن میں 5 روز کیلئے جنگی کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی وزراء خارجہ جان کیری اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے درمیان ملاقات میں یہ اتفاق ہوا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے میڈیا کو بتایا کہ جنگ بندی کا مقصد امدادی کارروائیوں میں آسانی لانا ہے۔ جنگ بندی حوثی باغیوں کے ردعمل سے مشروط ہو گی۔ جان کیری نے یمنی باغیوں سے کہا ہے کہ وہ مجوزہ جنگ بندی قبول کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نہ ہی سعودی عرب یمن میں زمینی دستے بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جان کیری نے کہا کہ تمام فریقین یمن میں متاثرین تک امداد کی رسائی یقینی بنانے کے لیے عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہیں۔ دورے کا مقصد سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں عارضی تعطل اور اس کے طریقہ کار کی تفصیلات طے کرنا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ نے خصوصی دورہ سعودی عرب کے دوران ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ عرب ٹی وی کے مطابق ریاض میں ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے امریکہ اور ریاض کے درمیان دوستانہ تعلقات، علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز بھی موجود تھے۔  سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر نے جان کیری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں جنگ بندی کا اعلان کیا۔  جان کیری نے کہا کہ حوثی باغی اور سعودی عرب جنگ بندی کے نافذ العمل ہونے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ’حوثی باغیوں اور ان کے حمایتیوں کو معاہدے کی شرائط پر راضی کرنے کے لیے سفارت کاری کے لیے یہ کافی وقت ہو گا۔‘  سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر نے اصرار کیا کہ معاہدے کے کارآمد ہونے کا انحصار حوثیوں اور ایران کی اس رضامندی پر ہو گا کہ وہ جنگ بندی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اس ضمن میں مزید معلومات پیرس میں جمعے کو منعقد ہونے والے اجلاس میں دی جائیں گی جس میں عرب ممالک کے وزیر خارجہ بھی شریک ہوں گے۔ یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے غیر ملکی افواج کی زمینی مداخلت کی منظوری دے۔ اقوام متحدہ میں یمن کے مشن نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبران کے نام خط میں زمینی افواج کی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی برادری یمن بالخصوص عدن اور طیعز کو حوثی باغیوں سے بچانے کے لیے زمینی افواج بھیجے۔‘ یمن کی حکومت کا سلامتی کونسل کے ارکان کے نام خط ملک میں غیر ملکی افواج کی زمینی مداخلت کا قانونی جواز مہیا کرے گا۔ یمنی حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ نہتے یمنی باشندوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ریکارڈ اکٹھا کرے۔ یمنی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے گی کہ حوثی باغیوں کو جنگی جرائم کے ارتکاب کی سزا مل سکے۔ اے ایف پی کے مطابق جان کیری نے سعودی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ ایران کو ایٹمی اسلحہ کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ایران کی ہلال احمر نے 2500 ٹن انسانی امداد کا جہاز یمن روانہ کر دیا ہے۔ سعودی اتحاد نے کہا کہ یمن میں حوثی ملیشیا نے اگر سرخ لکیر عبور کی تو اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔ القاعدہ نے کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے میں مارا جانے والا ان کا سینئر اہلکار اس ویڈیو میں موجود تھا ۔ جنہوں نے چارلی ربیڈو پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ۔