افغانستان: ڈرون حملہ‘ آپریشن اور جھڑپیں‘ 18 غیرملکیوں سمیت 137 طالبان‘ 6 فوجی ہلاک

افغانستان: ڈرون حملہ‘ آپریشن اور جھڑپیں‘ 18 غیرملکیوں سمیت 137 طالبان‘ 6 فوجی ہلاک

کابل، خیبر ایجنسی (آئی این پی+اے ایف پی + بی بی سی + نوائے وقت رپورٹ  )افغانستان میں سیکورٹی فورسز کے تازہ آپریشن میں 18غیر ملکیوں اور 16مقامی کمانڈروں سمیت 137 طالبا ن  ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے جبکہ 19 کوگرفتار کرلیاگیا،سیکورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا جبکہ 11دیسی ساختہ بم ڈیوائسز کو ناکار ہ بنادیا گیا ،طالبان کے حملوں میں 6 افغان فوجی بھی مارے گئے۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری  ایک بیان میں کہا گیاہے کہ گزشتہ24 گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ملٹری آپریشن میں یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ، 21 طالبان  صوبہ غزنی میں ضلع نوا میں  مارے گئے جن میں طالبان کمانڈر ملامعصوم،حکمت،خلیل،ملاجواد،جمعہ گل اور 4غیر ملکی شامل ہیں۔جنوبی صوبہ صوبہ زابل میں 8 عسکریت پسند ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے میدان وردک اور پکتیکا میں 3 عسکریت پسند ہلاک اور7زخمی ہوگئے ۔صوبہ قندوز میں ضلع اما م صاحب اور گور ٹپا کے علاقے میں آپریشن کے دوران 36 عسکریت پسند ہلاک،6 زخمی ہوگئے جبکہ 19مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ہلاک ہونے والوں میں 4 کمانڈر بھی شامل ہیں جن کی شناخت کریم مخلص،شیزداد،خان اور آواز کے نام سے ہوئی ہے ۔ 43 عسکریت پسند صوبہ فرح کے ضلع بالا بالوک میں افغان فورسز کے فضائی حملوں میں مارے گئے ۔دوسری جانب صوبہ زابل میں 2 ماہ قبل اغواء ہونے والے ہزارہ برادری کے 31 بس مسافروں کی تلاش کیلئے جاری آپریشن کے دوران پاکستانیوں سمیت 35 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے ۔صوبے کے قائمقام گورنر اشرف ناصری کا کہنا ہے کہ مغویوں کی تلاش کیلئے  آپریشن ضلع خاک افغان میں کیا گیا ۔افغانستان کے ضلع کنہڑ میں ڈرون حملے میں کمانڈر سمیت 15 طالبان مارے گئے۔قندور میں  کئی دیہات طالبان کے قبضے سے چھڑا لیے گئے ۔ بی بی سی کے مطابق قندوز شہر کے کچھ ہی فاصلے پر لڑائی اب بھی جاری ہے۔ قندوز کے گورنر محمد عمر صافی کا کہنا ہے کہ  طالبان کے شانہ بشانہ داعش کے جنگجو بھی لڑ رہے ہیں۔ قندور میں پروازیں منسوخ کردی گئیں، پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا غیر ملکی جنگجوئوں کا تعلق پاکستان، ازبکستان اور چیچنیا سے ہے۔  صوبائی گورنر محمد عمر صافی کے مطابق اب تک 18 غیرملکی جنگجوؤں کی نعشیں مل چکی ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ قندوز میں لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد نے دارالحکومت کے علاوہ صوبے کے دیہی علاقوں کا بھی رخ کیا ہے، قندوز میں لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد نے دارالحکومت کے علاوہ صوبے کے دیہی علاقوں کا بھی رخ کیا ہے۔ ان افراد کی امداد کے لیے عالمی ادارے کوشاں ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کے افغانستان میں ترجمان وحید اللہ امینی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ آٹے، دالوں، خوردنی تیل اور قوت بخش بسکٹوں پر مشتمل امدادی پیکٹ تیار کیے گئے ہیں جو 500 خاندانوں کو دیے جائیں گے۔ تاہم قندوز سے بی بی سی کے ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی طول پکڑ گئی تو اس کے نتیجے میں علاقے میں فصلوں کی کٹائی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے جس سے مقامی افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔