پنجابی مجاہدین آنے سے تحریک کا رخ بدلا کشمیری مجاہدین ہی آزادی کی جنگ لڑتے تو نتائج مختلف ہوتے، حسین حقانی کی درفنطنی

پنجابی مجاہدین آنے سے تحریک کا رخ بدلا کشمیری مجاہدین ہی آزادی کی جنگ لڑتے تو نتائج مختلف ہوتے، حسین حقانی کی درفنطنی

لندن (آن لائن) امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنی درفنطنی میں کہا ہے کہ اگر کشمیری مجاہدین ہی آزادی کی جنگ لڑتے تو آج نتائج مختلف ہوتے۔ کامن ویلتھ پارلیمنٹری رومز میں پاکستان کے موجودہ حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ تحریک طالبان ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ ہمیں یہ جنگ افغانستان سے ملی۔ پاکستانیوں اور عرب جنگجوئوں کی بجائے اگر افغان باشندوں کو استعمال کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ اب ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے، یہی حال کشمیر میں بھی ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی میں پنجابی مجاہدین کے شامل ہونے سے اس آزادی کی تحریک کا رخ تبدیل ہوگیا۔ کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 فروری کو تمام کاروبار بند کر کے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام سے ہی ترقی ممکن ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جنرل یحیٰی نے آدھا ملک توڑا مگر اسے کسی نے غدار نہیں کیا۔ سویلین حکومتوں کو غدار کہنا ناانصافی ہے۔ عوام فوج سے محبت کرتے ہیں۔ فوج کے سیاست میں آنے سے پاکستان میں خرابیاں پیدا ہوئیں۔ سانحہ پشاور کے بعد کافی حد پالیسیوں کو تبدیل کیا گیا۔ مسئلہ کشمیر کو نظریاتی نہیں سیاسی مسئلہ سمجھنا چاہئے۔ آپریشن ضرب عضب پاک فوج کا صحیح اقدام ہے۔