مصر: قتل کے الزام میں مرسی کے ایک حامی پھانسی دیدی گئی

قاہرہ (بی بی سی + اے ایف پی) مصر میں 2013 میں معزول صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں دی جانے والی موت کی سزاوں پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے اور سابق صدر کے حامی محمد رمضان کو پھانسی دے دی گئی۔ ان پر اسکندریہ کے شہر میں ہونے والے ایک واقعے جس میں نوجوانوں کو ایک عمارت سے نیچے پھینک دیا گیا تھا کے قتل کا الزام تھا۔ خیال رہے کہ صدر مرسی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد اسلام پسندوں کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی میں اب تک سینکڑوں افراد کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ جولائی 2013 میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے بعد مصری فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلعے میں پر تشدد فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ حکومتی خبررساں ادارے کے مطابق ان فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اخوان المسلمون نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ایک فلم جس میں اسکندریہ میں دو نوجوانوں کو چھت سے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر نشر کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک 19 سالہ حماد بدر تھا جس نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔ اس کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان بیٹا مرسی کے حق میں نکالی جانے والی ایک ریلی کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی تو وہ اور دیگر لوگ بچنے کے لیے ایک عمارت میں گھس گئے جہاں مرسی کے حامیوں نے ان کا پیچھا کر کے ان کو چھت سے نیچے پھینک دیا۔