مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا‘ ماحول بہتر بنانا پاکستان کی ذمہ داری ہے: بھارت

نئی دہلی (آن لائن) ملک کی سرحدیں محفوظ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا اور ماحول کو بہتر بنانے میں پاکستان کو اہم رول ادا کرنا ہو گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حکومت سازی کا انحصار مشترکہ پروگرام پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے اور اس سلسلے کے تحت افغانستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور چین کے ساتھ بھی بھارت اپنے رشتے بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ پڑوسی ملک دہشت گردی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور نیک نیتی کے ساتھ اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے آ گے جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات سے ہی مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا ہے اور اب یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ماحول فراہم کرے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جب بھی مذاکراتی عمل شروع کیا جاتا ہے دونوں ممالک کے اندر تشدد کا گراف بڑھ جاتا ہے لیکن اس صورتحال میں لازمی ہے کہ اب دونوں ممالک کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی مشترکہ اور خلوص بھری کوششیں کرنی ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس ملک کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد خطے میں کسی بڑی پیش رفت کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ بنیادوں پر اب تسدد کے خلاف لڑنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں جب تک نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ مسائل کو ایڈریس نہیں کیا جائیگا تب تک کچھ حاصل نہیں ہو گا تاہم انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر میں لوگوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا ہے اور اس سے پوری دنیا کو واضح پیغام چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے جمہوریت کے راستے کو چن لیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے اب کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے کوششیں تیز کرنی ہونگی۔