عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے شدت پسندوں نےالحضر نامی قدیمی اور تاریخی مقام کو بھی مسمار کر دیا

خبریں ماخذ  |  خصوصی نامہ نگار
عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے شدت پسندوں نےالحضر نامی قدیمی اور تاریخی مقام کو بھی مسمار کر دیا

خبر ایجنسی کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے عراق میں الحضر نامی قدیمی اور تاریخی مقام کو بھی مسمار کر دیا ہے۔ عراقی حکام نے بتایا ہے کہ مقامی اہلکاروں نے انہیں باخبر کیا ہے کہ شدت پسندوں نے  دو ہزار سال پرانے اس ثقافتی ورثے کو تباہ کر دیا ہے،لیکن ابھی تک اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ موصل کے نواح میں اس قدیمی تہذیب کی باقیات کو عراقی تمدنی زندگی کے ایک ارتقاء کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔جبکہ اس سے قبل انتہا پسندوں نے قدیمی شہر نمرود میں بھی تباہی مچا دی تھی،، دوسری جانب عراقی دستوں نے کامیابی پیش قدمی کرتے ہوئے اسٹریٹیجیک نوعیت کے قصبے دُر سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں کو پسپا کر دیا ہے۔
عراق کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ملکی دستوں نے دُر کے قصبے کے وسط میں عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔ یہ علاقہ تکریت اور سامراء کے درمیان میں واقع ہے۔ ادھر تکریت کی جنگ میں عراقی فوج کی اس پیش قدمی کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔