جامعہ الازہر نے آثار قدیمہ کو خلاف اسلام قرار دے کر مٹانا حرام قرار دیدیا

قا ہرہ (آن لائن) مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازہر نے دولت اسلامی داعش کے ہاتھوں عراق، شام اور لیبیا میں صدیوں پرانے آثار قدیمہ کو مسمار کیے جانے کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آثار قدیمہ کو خلاف اسلام قرار دے کر انہیں مٹانا حرام ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازہر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کی جانب سے تاریخی عجائبات کو بتوں سے تشبیہ دے کر انہیں مسمار کرنا عالمی جنگی جرم ہے جس کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے۔ بیان میں شمالی عراق کے شہر موصل اور نمرود میں آثار قدیمہ کو مسمار کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیرہ قبل مسیح کے دور کے شہر نمرود کو مسمار کر کے داعش نے ثابت کیا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جامعہ الازھر نے عراق، شام اور لیبیا سمیت دیگر عرب ملکوں میں موجود آثارقدیمہ کے دفاع کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت استعمال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔