مقبوضہ کشمیر: جیل بھرو تحریک جاری، مزید 21 کشمیریوں نے گرفتاری دیدی: جموں میں مسلمانوں کی کچی آبادی مسمار کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

مقبوضہ کشمیر: جیل بھرو تحریک جاری، مزید 21 کشمیریوں نے گرفتاری دیدی: جموں میں مسلمانوں کی کچی آبادی مسمار کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

سرینگر (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی جیل بھرو مہم کے دوران مزید 21 کارکنوں نے گرفتاریاں دیدیں۔ جے کے ایل ایف کے کارکنوں نے احتجاجی جلوس کی شکل میں کدل اور مدینہ چوک سے ہوتے ہوئے ایکسچینج روڈ پر پہنچ کر بھارتی پولیس کو گرفتاریاں پیش کیں۔ اس موقع پر فرنٹ کے نائب چیئرمین بشیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ظلم کیخلاف جدوجہد کرنیوالوں کی ہی آخری فتح ہوتی ہے۔ اور بھارتی مظالم کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ علاوہ ازیں عوامی مجلس عمل نے شہید مسجد مولوی مشتاق احمد کے دسویں یوم شہادت کے موقع پر شہید ملت میر واعظ مولوی فاروق سمیت دیگر شہداء کشمیر کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت پسند عوام حق خودارادیت کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ شہداء کی قربانیاں فراموش نہیں کرینگے۔ جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہماری مبنی برحق جدوجہد عظیم جانی و مالی قربانیوں سے لبریز ہے۔ ادھر جموں میں سکھ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف سکھوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ علاوہ ازیں جموں میں مسلمانوں کی کچی بستیاں مسمار کیے جانے کیخلاف سری نگر میں کشمیری طلباء نے پریس کالونی میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریاستی حکومت کیخلاف نعرے لگائے۔ احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ سے مسلمانوں کی جھونپڑیوں کو ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن قریبی ہندو آبادیوں کو کبھی چھیڑا تک نہیں گیا۔ اگر یہ امتیازی سلوک بند نہ کیا گیا تو خاموش نہیں رہیں گے۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر میں ہندوئوں کی امرناتھ یاترا کیلئے ایک لاکھ پچاس ہزار ہندوئوں نے رجسٹریشن کرالی ہے۔ 21 جولائی سے 25 جولائی تک جاری رہنے والی امرناتھ یاترا میں سکیورٹی کیلئے بھارتی فوج کی اضافی نفری تعینات کی جائیگی۔ خطہ پیر پنچال میں واقع سرکاری سکولوں میں مسلمان بچوں کوصبح کی اسمبلی میںوندے ماترم پڑھایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقامی ہندو انتظامیہ ہندووں کے ساتھ ساتھ مسلمان بچوں کو بھی زبردستی وندے ماترم پڑھا رہی ہے۔ مسلمان رہنماوں نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہندو انتہا پسند عناصر نے جموں کے مسلمانوں کے وجود، شناخت اور مفادات کے خلاف ایک زوردار مہم شروع کی ہوئی ہے اور وہ اس خطے میں ایک بار پھر 47کی تاریخ کو دہرانا چاہتے ہیں