خیبرپی کے میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کیا مسئلہ کا حل ہیں: بی بی سی

خیبرپی کے میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کیا مسئلہ کا حل ہیں: بی بی سی

پشاور (بی بی سی ڈاٹ کام) خیبرپی کے میں 30 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سنگین نوعیت کے دھاندلی کے الزامات اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے بعد اب بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حالات سیاسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپی کے پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت پارٹی کے تمام اہم عہدیداروں اور صوبائی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ دوسری طرف سہ فریقی اتحاد پر مشتمل صوبے کی حزب اختلاف کی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور پیپلزپارٹی نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان حالات سے نکلنے کا حل کیا ہے ؟ کیا دوبارہ انتخابات تمام مسائل کا حل ہیں یا دھاندلی کی تحقیقات ایک بااختیار کمشن سے کرانے سے سیاسی جماعتیں مطمئن ہو سکتی ہیں؟ تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے الیکشن میں دھاندلی کی مکمل ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی کیونکہ انتخابات تو الیکشن کمشن کے ماتحت ہوا اور تحریک انصاف کے کئی سرکردہ رہنماؤں کے بیٹے بھائی اور عزیز رشتہ دار بھی انتخابات ہار چکے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔ تاہم صوبائی حکومت کو اپنے وزیر مالیات علی امین گنڈاپور سمیت ان تمام پولیس افسران اور الیکشن عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنی ہو گی جو دھاندلی میں ملوث رہے اور ایسا نہیں کیا گیا تو پھر یقینی طورپر حکومت کو خود کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ بعض مبصرین صوبائی حکومت اور عمران خان کی طرف سے دوبارہ انتخابات کرانے کی پیش کش کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے انتخابات کوئی بچوں کا کھیل نہیں جو ہر ایک ڈیڑھ ہفتے کے بعد دوبارہ کرائے جائیں۔