مقبوضہ کشمیر:انتہا پسند ہندوئوں کی سرینگر میں بھارتی ترنگا لہرانے کی کوشش ناکام،9گرفتار، مظالم کے خلاف احتجاج جاری

مقبوضہ کشمیر:انتہا پسند ہندوئوں کی سرینگر میں بھارتی ترنگا لہرانے کی کوشش ناکام،9گرفتار، مظالم کے خلاف احتجاج جاری

سرینگر (اے این این+آن لائن ) مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چیلنج کو قبول کر تے ہوئے بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل اور شیو سینا کے کارندوں نے سرینگر میں بھارتی ترنگا لہرانے کی ناکام کو شش کی اور پولیس نے انتشار پھیلانے والے 9 کارندوں کو گرفتار کر لیا جبکہ دو مختلف حادثات میں پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 3افراد ہلاک ہو گئے،شوپیاں میں بھارتی فوجی کے قتل کے الزام میں ایک نوجوان گرفتار، بھارتی فورسز کے مظالم کیخلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا،بھارتی فورسز پر پتھراؤ،اہلکاروں کی فائرنگ اور پیلٹ لگنے سے 5افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھارتی کو کہا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کے خواب دیکھنے سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ترنگا لہرا کر دکھائے اس بات کو بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اپنے لئے چیلنج سمجھ لیا اور اور گزشتہ روز شیو سینا اور بجرنگ دل کا 9رکنی گروپ علی الصبح ریگل چوک میں واقع سٹیٹ بینک آف انڈیا ہیڈکوارٹر کے باہر نمودار ہوا اور شیوسینا زندہ باد، ہندوستان زندہ باد، بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے تاریخی لال چوک پہنچ گیا۔ نقص امن کے خدشے کے پیش نظر 9شیو سینا کارکنوں کو ترنگا لہرانے سے قبل ہی گھنٹہ گھر کے بالکل نزدیک حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چئیر مین میر واعظ عمر فاروق نے جموںوکشمیر کی تازہ ترین صورتحال کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی جمائو والے اس خطے میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے قتل و غارت گری ، مار دھاڑاور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیاں پورے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور حکومت ہند کشمیریوں کی اپنی جدوجہد اور تحریک کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کچلنے کیلئے وہ تمام حربے استعمال کررہی ہے۔حریت قائدین نے کہا بھارتی ایجنسیاں حریت قیادت کا اتحاد توڑنے کے لئے متحرک ہو چکی ہیں، عوام ہوشیار رہیں۔