افغان طالبان نے امن مذاکرات کیلئے دفتر قائم کرنے کی پیشکش مسترد کر دی

افغان طالبان نے امن مذاکرات کیلئے دفتر قائم کرنے کی پیشکش مسترد کر دی

کابل /واشنگٹن (آئی این پی)سرکاری سطح پر قائم کی گئی اعلی سطح امن کونسل نے افغان طالبان کو امن مذاکرات کیلئے کابل یا کہیں اور دفتر قائم کرنے کی پیش کش کردی تاہم طالبان نے فوری طور پر اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حریف امریکی قبضے والی افواج ہیں جنھوں نے کابل کی حکومت تشکیل دے رکھی ہے، افغانستان میں غیر ملکی موجودگی ہی اصل مسئلہ ہے ہمیں کابل میں دفتر قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چونکہ نصف سے بھی زیادہ افغانستان ہمارے کنٹرول میں ہے اور سارا افغانستان ہی ہمارا دفتر ہے۔طالبان نے فوری طور پر اس پیشکش کو مسترد کیا۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حریف امریکی افواج ہیں، جنہوں نے کابل کی حکومت تشکیل دے رکھی ہے۔شورش کے خاص ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان میں غیر ملکی موجودگی ہی اصل مسئلہ ہے۔ان کے بقول، ہمیں کابل میں دفتر قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔سرکاری سطح پر قائم کی گئی اعلی سطحی امن کونسل کے ایک سینئر رکن نے افغان دارلحکومت میں اخباری نمائندوں کی موجودگی میں اس نئی پیش کش کا اعلان کیا۔ باغی راہنما جنھیں جلاوطنی میں مشکل حالات کا سامنا ہے سے کہا کہ وہ باعزت مکالمے کے لیے، مذاکرات کی میز پر آجائیں، تاکہ تنازعے کی مشکلات کو ختم کیا جاسکے، جو افغانوں کو لاحق ہیں۔خپلواک نے کہا کہ اگر وہ دفتر قائم کرنا چاہتے ہیں، یا کسی بھی ملک میں ایسا کرنا پسند کریں گے، اور انھیں امن بات چیت کو بحال کرنے کے لیے سہولیات درکار ہوں، تو افغان حکومت اور اعلی امن کونسل اس سلسلے میں سہولت کار بننے کے لیے تیار ہے۔
طالبان پیشکش