برما کی پارلیمنٹ نے اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے سیاسی اصلاحات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزام میں نو ججوں سے جبری استعفے لے لئے ہیں۔

خبریں ماخذ  |  خصوصی رپورٹر
برما کی پارلیمنٹ نے اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے سیاسی اصلاحات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزام میں نو ججوں سے جبری استعفے لے لئے ہیں۔

برما میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پارلیمنٹ اور عدلیہ میں سیاسی اصلاحات پر اختلافات پائے جاتے تھے۔

اعلیٰ عدلیہ پر الزام لگایا جا رہا تھا کہ وہ سیاسی اصلاحات کے راستے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ برما کی عالمی شہرت یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت نے بھی ججوں کے مواخدے کی حمایت کی ہے۔ ٓئینی مارہین کے مطابق پارلیمنٹ نے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا مواخذہ کرکے آئین کے آرٹیکل

تین سو چوبیس کو براہ راست چیلنج کیا ہے جس میں واضح لکھا ہے کہ کسی آئینی معاملے پر ججوں کا حکم حتمی ہو گا اور اسے پارلیمنٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ صدر تھان شین نے ججوں کے استعفے منظور کر لئے ہیں۔