لیبیا کے مختلف شہروں میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری تیل کی دولت سے مالا مال راس لانوف پر باغیوں کا قبضہ برقرار ۔

لیبیا کے مختلف شہروں میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری تیل کی دولت سے مالا مال راس لانوف پر باغیوں کا قبضہ برقرار ۔

لیبیا کے شہروں زاویہ، بریجا، راس لانوف اوربن جواد میں حکومت کی حامی فورسز اور مخالفین میں جھڑپیں ہورہی ہیں اور کئی مقامت پر لڑائی کے دوران عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ۔ جھڑپوں میں متعدد افرادکی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں ۔ لیبیا کے اہم شہر راس لانوف پر حکومتی دعووں کے باوجود باغیوں کا قبضہ برقرار ہے ۔حکومت مخالفین نے ایک جنگی طیارہ بھی مارگرانے کادعویٰ کیا ہے ، حملہ آوروں کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سواردوپائلٹ بھی مارے گئے ہیں ۔ باغیوں کاکہنا ہے کہ بن جواد پر بھی ان کاقبضہ ہوگیا ہے اوراب وہ قذافی کے آبائی علاقے سرطے کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔ دوسری جانب ایک فرانسیسی اخبارکو انٹرویو میں معمر قذافی نے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جس میں عالمی برادری کا تعاون حاصل نہ ہونے پر انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ اگر لیبیا میں مخالفین جیت گئے تو بڑی تعداد میں مہاجرین یورپ منتقل ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں جاری بدامنی سے متعلق اقوام متحدہ یا افریقین یونین کا کمیشن تفتیش کرے،کمیشن سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ان کاکہنا تھا کہ اگر فرانس اِس مجوزہ کمیشن کی سربراہی کرے تووہ اس کی حمایت کریں گے۔