خلیجی ممالک کا یمن میں حکومت کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق

خلیجی ممالک کا یمن میں حکومت کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق

ریاض+کویت سٹی (نوائے وقت رپورٹ+نیوز ایجنسیاں+عبدالشکور ابی حسن) خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ خلیجی ممالک نے یمن میں حکومت کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں امن و امان کی بحالی عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ اجلاس میں ایران سے عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ عرب ٹی وی کے مطابق خلیجی سربراہوں کا مشاورتی اجلاس ریاض میں ختم ہو گیا جس میں شام کا مسئلہ وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ عراق کی سلامتی اور حفاظت کیلئے سیاسی عمل کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ ادھر یمنی باغیوں نے سعودی سرحدی قصبے نجران میں مارٹر شیل اور راکٹ داغے، کئی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ سکول بند کر دئیے گئے۔ سعودی عرب نے جنوبی علاقوں میں پروازیں معطل کر دیں۔ کانفرنس میں سعودی فرمانروا نے شرکاء کو بتایا ایران خلیجی ممالک کیلئے خطرہ ہے۔ فرانسیسی صدر ہولاند نے کہا یمن کے استحکام کیلئے اتحاد کی کاوشوں کی حمایت کرتے ہیں۔ دریں اثناء افریقی ملک سینیگال نے یمن میں حوثی باغیوں کیخلاف کارروائی کرنے والے عرب اتحاد کی مدد کیلئے 2 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فوج بھیجنے والا پہلا غیر عرب ملک ہے۔ یمن کے صدر منصورہادی نے17مئی کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قومی مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر نے قومی مذاکرات کے لیے 17مئی کی تاریخ مقرر کی ہے اور یہ مذاکرات سعودی عرب کی میزبانی میں ہوں گے۔ یمن نے توقع ظاہر کی کہ مذاکرات میں یمن کی تمام نمائندہ جماعتیں اور شخصیات شرکت کریں گی تاہم سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کے مندوبین کی شرکت کا امکان نہیں ہے۔ قومی مذاکرات میں 250 اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ یمن کی جنرل پیپلز کانگریس نے ریاض میں مذاکرات میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے او سی ایچ اے کییمن میں سربراہ یوہانس ڈرکالاو نے کہا ہے کہ صنعاء کا ایئر پورٹ یمن میں پھنسے لوگوں کو نکالنے اور وہاں امداد فراہم کرنے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ قابل استعمال بنانے کیلئے اس کی مرمت ضروری ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے یمن میں امدادی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور وہاں امدادی کاموں میں مصروف اداروں کو اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔سعودی عرب کے سرحدی علاقے نجران پر یمنی حوثی باغیوں نے پہلی بار شدید بمباری کی جس پر سعودی فورسز نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی۔ جنوبی علاقوں میں پروازیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق قصبے فوجی چیک پوسٹ پر حملے میں ایک سعودی فوجی ہلاک ہو گیا۔ بعض ذرائع کے مطابق 3 فوجی مارے گئے۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے حملے میں 2 شہری ہلاک ہوئے جبکہ باغی 5 سعودی فوجیوں کو اغوا کرکے لے گئے۔خادمین الحرمین الشرفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے یمن میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لئے ایک مرکز کے قیام کا اعلان کیا اور اقوام متحدہ کو خانہ جنگی کے شکارملک میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ جی سی سی کے قیام اور اس کو فعال بنانے میں مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ یمن میں فوجی مداخلت کے فیصلے کا ذکرتے ہوئے کہاکہ ’’یمن اوراس کے اداروں کو تباہی سے بچانے کے لئے یہ اقدام ضروری ہو گیا تھا‘‘ انہوں نے کہاکہ یمن باغی لیڈروں نے جاری طوائف الملوکی کے خاتمے کے لئے جی سی سی کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔  خادمین الحرمین الشرفین شاہ سلمان نے اپنے خطاب میں فلسطینی کازاوراس کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اورکہاکہ یہ عرب دنیا کی اولین ترجیح ہے۔ سعودی ائر لائن نے بحران کیلئے پروازیں معطل کر دیں۔ بعض افراد نے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن تنازعہ میں 646 شہری مارے اور 1300 زخمی ہو گئے۔ 3 ملین معذور ہیں۔ ان میں 50 خواتین اور 131 بچے شامل تھے۔