برطانوی عوام کل اپنے چوہترویں وزیراعظم کا انتخاب کرنے جا رہے ہیں

برطانوی عوام کل اپنے چوہترویں وزیراعظم کا انتخاب کرنے جا رہے ہیں

یونائیٹڈ کنگڈم،گریٹ برٹن اور تاج برطا نیہ ایک ہی ملک کے نام ہیں،ایک ایسا ملک جس نے عروج وزوال کے کئی ادوار دیکھے ،دنیا پر حکمرانی بھی کی اور جنگیں بھی لڑیں ،طاقت کا اندھا ستعمال بھی کیا اور جمہوریت کی شمع بھی روشن کی ،اسی برطانیہ میں کل چھپن ویں انتخابات ہونے جا رہے ہیں برطانیہ  کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو ہاؤس آف لارڈز کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ ایوان زیریں ہاؤس آف کامنز کہلاتا ہے،ہاؤس آف کامنز کی کل چھہ سو پچاس نشستیں ہیں ،جن کیلیے بیس سے زیادہ بڑی جماعتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں لیکن اصل مقابلہ لیبر اور کنزر ویٹو پارٹی کے درمیان ہےلیبر پارٹی کی قیادت ایڈ ملی بینڈ جبکہ کنزرویٹو پارٹی کی قیادت موجودہ برطانوی وزیرا عظم ڈیوڈ کیمرون کے ہاتھ ہے ،چھہ سو پچاس نشستوں کیلیے چار کروڑ اکیاون لاکھ انتالیس ہزار نوسو ننانوے ووٹرز کل ووٹ کاسٹ کرینگے ووٹنگ برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوگی جو بغیر کسی وقفے کے رات دس بجے تک جاری رہے گی موجودہ پارلیمنٹ تیس اپریل کو تحلیل کر دی گئی تھی ،کل منتخب ہونیوالا ہاؤس آف کامنز برطانیہ کی تاریخ کا چھپن واں ایوان ہوگا

برطانوی  عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم آج بدھ کو اپنے آخری روز میں داخل ہوگئی

برطانوی دارالعوام کے ارکان کے انتخاب کے لیے پولنگ سات مئی کو ہوگی۔ چھ سو پچاس نشستوں پر ساڑھے چار کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرینگے، حکومت بنانے کیلئے کسی بھی پارٹی کو تین سو چھبیس نشستیں درکار ہیں،انتخابی مہم کے آخری دن وزیرِ اعظم کیمرون شمال مغربی اور وسطی انگلستان کے علاوہ سکاٹ لینڈ کا دورہ کررہے ہیں جبکہ ایڈ ملی بینڈ کی منزل شمالی انگلینڈ کے وہ حلقے ہیں جہاں گذشتہ انتخابات میں ان کی مخالف کنزوریٹو جماعت معمولی فرق سے جیتی تھی۔بدھ کو انتخابی مہم کے آخری دن جہاں وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کو ’روشن مستقبل کی راہ پر گامزن رکھنے‘ کے وعدے کرتے دکھائی دے رہے ہیں تو وہیں لیبر پارٹی کے ایڈ ملی بینڈ ایک ایسی حکومت کا وعدہ کررہے ہیں جو ’اپنے فیصلوں میں نوکری پیشہ افراد کو مقدم رکھے گی۔‘جبکہ لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے رہنما نک کلیگ اپنے پیغام میں ملک کو ’استحکام بخشنے‘ کی بات کررہے ہیں۔اب تک کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں کسی ایک جماعت کے اکثریت حاصل کرنے کے امکانات نہیں ہیں۔
برطانیہ میں اب تک تہتر وزرائے اعظم اقتدار میں آئے اور یہ  جمہوری تسلسل اٹھارہویں صدی کے آغاز سے جاری

سترہ سو اکیس میں شروع ہونیوالی جمہوری پریکٹس یعنی اقتدار بذریعہ عوام کے تحت بننے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم کا نام رابرٹ وال پول تھا اور ان کا  تعلق اس وقت کی ترقی پسند جماعت  وگ پارٹی  سے تھا ،رابرٹ چار مرتبہ وزیر اعظم بنے اور اکیس سال وزیر اعظم رہے ،یہ کسی بھی برطانوی وزیر اعظم  کی سب سے طویل مدت اقتدار بھی ہے ،مجموعی طور پر برطانیہ کے تہتر وزرائے اعظم میں سب سے بڑی تعداد کنزر ویٹو پارٹی کے ایم پیز کی ہے ،،کنزر ویٹو پارٹی سے ہپچیس ایم پی اب تک وزیر اعظم  بن چکے ہیں ،،جن میں سر ونسٹن چرچل اور مارگریٹ تھیچر جیسے قد آور حکمران بھی شامل ہیں ،،چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی قیادت سنبھالی تھی دوسری جماعت جس کے سب سے زیادہ وزیر اعظم بنے وہ برطانیہ کی ابتدائی سیاسی جماعت وگ پارٹی تھی ،اس جماعت  کے انیس وزیر اعظم بنے ،تیسرے نمبر پر ٹوری پارٹی ہے جس نے بارہ الیکشن جیتے اور بارہ مرتبہ اس کا وزیر اعظم بنا ،چوتھے نمبر پر لبرلز ہیں جو دس الیکشن جیتے اور دس مرتبہ وزیر اعظم ان کی جماعت سے بنا ،لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے آٹھ ایم پیز بھی برطانیہ کے وزیر اعظم بن چکے ہیں،جن میں گورڈن براؤن اور ٹونی بلیئر شامل ہیں