سپین: ’’مسجد قرطبہ کو چرچ کے حوالے نہ کیا جائے‘‘ لاکھوں افراد کی آن لائن درخواست

لندن (بی بی سی اردو) سپین کی معروف عمارت مسجد قرطبہ جسے مشترکہ طور پر مسجد اور گرجا گھر کہا جاتا ہے ان دنوں تنازعے کا باعث بنی ہوئی ہے لاکھوں افراد نے آن لائن پیٹیشن داخل کی ہے کہ اسے  کیھتولک چرچ کی ملکیت نہ بنایا جائے۔ سپین کے شہر قرطبہ میں واقع مسجد قرطبہ کو اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمارت تیرہویں صدی عیسوی سے قبل مسجد ہوا کرتی تھی۔ اس کے مرکز میں ایک گرجا گھر واقع ہے جس میں روزانہ مسیحی عبادت ہوتی ہے۔ ملک کے قانون کے تحت یہ تاریخی عمارت آئندہ دو برسوں میں چرچ کی ملکیت بن جائے گی۔ تقریباً سوا تین لاکھ افراد نے آن لائن عرضی میں درخواست کی ہے کہ اس فیصلے کو روک دیا جائے۔ سپین کا کیتھولک چرچ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہاں مسجد ہوا کرتی تھی ایک پادری نے کہا کہ اس عمارت کی اسلامی تاریخ کو مٹانا ناممکن ہے یہ قرطبہ اور سپین کی تاریخ کی علامت ہے۔