گستاخانہ خاکے بنانے والا ملعون ویسٹر گارڈ جل مرا

کراچی (خصوصی رپورٹ) سعودی عرب کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ گستاخانہ خاکے بنانے والا ملعون ڈینش کارٹونسٹ ویسٹر گارڈ اپنے گھر میں اچانک بھڑکنے والی آگ میں زندہ جل کر ہلاک ہو گیا ہے۔ عربی روزنامے صحیفة الوفاق نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملعون کارٹونسٹ کی ہلاکت کا واقعہ چند روز قبل پیش آیا جبکہ پولیس اور متعلقہ حکام کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں بظاہر آتشزدگی کی کوئی وجہ سامنے نہیں آ سکی حالانکہ چند ہفتے قبل ویسٹر گارڈ پر صومالی مسلم نوجوان کی جانب سے کئے گئے حملے کے بعد ڈینش حکومت نے حفاظتی اقدامات انتہائی سخت کر دئیے تھے اور کسی قسم کے بیرونی حملے کا امکان ختم ہو گیا تھا۔ اخبار کے مطابق ملعون ویسٹ گارڈ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی نشان عبرت بنا کر توہین رسالت کرنے والے بدبختوں کو ان کے انجام بد سے خبردار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کرٹ ویسٹر گارڈ کے گھر میں لگنے والی آگ صرف اس کے کمرے تک محدود رہی اور بجلی کی وائرنگ سمیت دیگر کوئی چیز اس سے متاثر نہیں ہوئی۔ سعودی روزنامے منتدی الاسلامی اور منتدیات العز کا دعویٰ ہے کہ ویسٹر گارڈ تک سخت سکیورٹی کے باعث کسی شخص کا پہنجنا ممکن نہیں تھا لیکن اللہ کی جانب سے اسے لوگوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ادھر ڈنمارک کی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے ابھی تک ملعون کارٹونسٹ کی ہلاکت کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔ واضح رہے کہ ویسٹر گارڈ کے بنائے ہوئے گستاخانہ خاکے پہلی مرتبہ ڈینش اخبار جیلنڈر بوسٹن نے شائع کئے تھے پھر دیگر مسلم دشمن اخبارات اور جرائد نے جیلنڈر بوسٹن کی تقلید کی جس پر پوری مسلم دنیا سراپا احتجان بن گئی۔