فرانس کے بعد کینیڈا میں بھی نقاب کا تنازعہ پیدا ہوگیا

اوٹاوا (ثناءنےوز) فرانس کے بعد کینیڈا میں بھی نقاب کا تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ ایک مصری مسلمان خاتون نے ایک مقامی کالج میں فرانسیسی زبان کی کلاس میں اپنا حجاب اور نقاب ختم کرنے سے انکار کردیا جس سے فرانس کے بعد کینیڈا میں بھی نقاب پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ کالج اور صوبائی حکومت نے جب اسے حجاب ترک کرنے پر مجبور کیا تو اس نے کلاس چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا ۔ یہ مصری خاتون جس کی شناخت نہیں ہوسکی۔ 3 بچوں کی ماں ہے اور اس نے حال ہی میں ترک وطن کیا ہے۔ اس نے اپنے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ کرتے ہوئے کیوبک کے انسانی حقوق کمیشن میں ایک درخواست داخل کی ہے۔ کالج کے پرنسپل سینٹ لارینٹ کے مطابق انہوں نے ابتداءمیں اس خاتون کو برقعہ‘ حجاب اور مکمل نقاب استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جس میں سے اس خاتون کی صرف آنکھیں نظر آتی ہیں۔ اگست کے مہینے میں کلاسوں کے آغاز پر اس خاتون کو پہلی صف میں بیٹھنے کی جگہ فراہم کی گئی۔ تمام مرد طالبعلم ان کے پیچھے بیٹھتے تھے۔ دوسرے سیشن کے آغاز پر کالج کے حکام اور صوبائی وزارت ایمگریشن نے نقاب کا استعمال ترک کر دینے پر اصرار کیا جس کے بعد خاتون نے کالج چھوڑ دیا ۔ اس خاتون نے گزشتہ روز کینیڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (سی بی سی) کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ کلاس میں مرد طلباءکی موجودگی کے سبب نقاب استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے تین بچے ہیں اور یہ تنازعہ پیدا ہونے کی وجہ سے میں بہت نروس ہوں۔ مجھے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن جاریہ موسم کے اواخر میں اپنا فیصلہ سنائےگا۔ یاد رہے کینیڈا میں ایک ملین سے زائد مسلمان مقیم ہیں۔