عراق جنگ کی حمایت کا فیصلہ درست تھا : برطانوی وزیراعظم گورڈن براﺅن

لندن (آصف محمود سے) برطانوی وزیراعظم گورڈن براﺅن نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کیخلاف جنگ کی حمایت کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ 2003ءمیں بطور وزیر خزانہ عراق میں فوجی اخراجات میں کمی کے الزامات پر پانچ رکنی پارلیما نی کمیٹی میں پیشی کے دوران گورڈن براﺅن نے 6 گھنٹے تک سوالات کے جوابات دیئے ۔ عراق جنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام حسین کا تختہ الٹنے کے ٹونی بلیئر کے فیصلے سے انہیں بہت زیادہ سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ عراق جنگ کے دوران بے گناہ معصوم شہریوں اور برطانوی فوجیوں کے مرنے کا کس حد تک دکھ ہے۔گورڈن براﺅن انکوائری کے بعد ٹونی بلیئر کی طرح پچھلے دروازے سے جانے کی بجائے سامنے کے دروازے سے نکلے اور اپنے خلاف نعرے لگاتے مظاہرین کو مسکرا کر دیکھتے رہے۔مجھے بش اور انکی ٹیم کی ناکامیوں پر افسوس ہے لیکن وہ ہر غلط اقدام کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے سکتا۔ ٹونی بلیئر کے عراق جنگ پر جانے کے فیصلے کا ساری کابینہ کو علم تھا۔ برطانوی اخبار ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1997ءسے 2001ءتک برطانوی فوجی قیادت کرنے والے جنرل چارلس رونالڈ لیویلن گوتری نے گورڈن براﺅن پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بطور وزیر خزانہ گورڈن براﺅن نے فوج کو کم فنڈز دیئے جس سے عراق اور افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔