مقبوضہ کشمیر : نوجوان کی شہادت کے خلاف مکمل ہڑتال ‘ مظاہرے ‘ فوج کیساتھ جھڑپوں میں بیسیوں زخمی

سرینگر (کے پی آئی) مقبوضہ کشمےر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں نوجوانوں کی شہادت کے خلاف گزشتہ روز احتجاجی ہڑتال سے رےاست بھر مےں نظام زندگی معطل ہو کر رہ گےا ۔ اس دوران کئی مقامات پر احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوئے جبکہ حرےت قائدےن علی گےلانی ، مےرواعظ، ےسےن ملک ، شبےر شاہ گھروں مےں نظربند رہے۔ ہڑتال کی اپےل کل جماعتی حریت کانفرنس چیئرمین سید علی گیلانی نے مرکنڈل شہادتوں کیخلاف کی تھی۔ اس دوران تمام کاروباری سرگرمیاں معطل اور دوکانیں بند رہیں۔ جامع مسجد سرینگر اور مسجد حمزہ لالچوک سے بھی پرامن احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ ترال میں شہادتوں کے خلاف احتجاج کے دوران گاڑیوں اور دکانوں پر پتھراﺅ کیا گیا۔ سمبل، حاجن، کوندہ بل، نائد کھئے، صفاپورہ، مانسبل اور ملحقہ علاقہ جات میں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعداد تعینات کی گئی۔ بانڈی پورہ اور گاندربل کے ساتھ ساتھ وادی کے مختلف علاقوں میں بھی ہڑتال کے دوران مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں بیسیوں افراد زخمی ہوگئے۔ کل جماعتی حرےت کانفرنس گ کے چےرمےن سےد علی گےلانی نے کہا کہ بھارتی فوج کی موجوگی میںافسپا ہونا، نہ ہونا ایک جیسا ہے اور جب تک جموں کشمیر سے مکمل فوجی انخلا عمل میں نہیں آجاتا، مرکنڈل جیسے واقعات دہرائے جاتے رہیں گے اور کشمیری نوجوان جرم بے گناہی میں قتل ہوتے رہیں گے۔گیلانی نے کہا کہ معصوم لوگوں کی ہلاکتوں پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے ہیں اور ان کے خلاف احتجاج کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے اور اس کے لیے ہم اخلاقی طور بھی پابند ہیں۔