مصر : فوج کی فائرنگ‘ جھڑپیں‘ 23 افراد ہلاک‘ دینی جماعتوں کا احتجاج

مصر : فوج کی فائرنگ‘ جھڑپیں‘ 23 افراد ہلاک‘ دینی جماعتوں کا احتجاج

قاہرہ (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں+نیٹ نیوز) قاہرہ میں سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں پر فوج کی فائرنگ اور مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں میں اور نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 5 پولیس اہلکارں اور ایک فوجی سمیت 23 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ محمد مرسی کے حامیوں نے ری پبلکن گارڈز کے ہیڈ کوارٹرز کی جانب پیشقدمی شروع کی اس دوران مصری فوج نے مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی۔ محمد مرسی کے حامی فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ دوسری جانب شمالی صوبے میں مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کر دی جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔مصر کی فوج نے عوام کو پر امن احتجاج کے حق کی ضمانت دے دی ہے مصر کے عبوری رہنما اور آئینی عدالت کے سربراہ عدلی منصور نے کہا کہ ملک میں انتخابات عوام کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔ انہوں نے شوریٰ کونسل (سینٹ) بھی تحلیل کر دی ہے جس میں اخوان المسلمون کی اکثریت تھی۔اسلامی جماعتوں کے اتحاد نے صدر مرسی کی برطرفی کیخلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ ددوسری جانب اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد نے مصر میں عبوری حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا ہے۔اخوان نے مصر کی بغاوت کو ناجائز قرار دیا ہے اور اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں، گلیوں میں موجود رہیں تاہم انہوں نے کہا ہے کہ فوج سے تصادم سے گریز کیا جائے۔ اخوان کے افراد کیخلاف آپریشن جاری ہے۔ 300 ارکان کی گرفتاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جا چکے ہیں۔ اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد نے کہا ہے کہ اخوان المسلمون ’فوجی بغاوت‘ کو تسلیم نہیں کرتی۔ انہوں نے محمد مرسی اور زیرِحراست دوسرے افراد کی رہائی اور مرسی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون نئی حکومت سے بالکل تعاون نہیں کرے گی اور وہ ’لوگوں کی طرف سے کیے گئے پرامن احتجاج‘ میں حصہ لے گی۔ فوج نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی ہر شخص کا حق ہے۔ پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ اخوان المسملین کے 35 سینیئر رہنماﺅں کے سفر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اخوان المسلمون اور اس کی سیاسی شاخ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی(ایف جے پی) کے سینیئر رہنماﺅں کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ کام نہیں کریں گے لیکن وہ ان کے خلاف نہ خود ہتھیار اٹھائیں گے اور نہ اپنے کارکنوں کی ایسا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے۔ اسلامی جماعتوں کے اتحاد نے نمازِ جمعہ کے بعد اجتماعی دعا اور فوجی اقدامات کے مذمت کرتے ہوئے مظاہرے کئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق مصر کی بااثر سلفی تحریک نے اسلام پسندوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے احتجاج بند کریں۔ محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ان کے مخالفین کا جشن اور حامیوں کا احتجاج جاری ہے۔ مخالفین آتش بازی کرکے ، جھنڈے لہرا کر ، نعرے لگا کر اور رقص کرکے اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ دوسری جانب ان کے حامیوں نے دھرنے دیئے اور فوجی اقدامات کو جمہوریت کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔ مصری فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج نے سابق صدر مرسی کے حامیوں پر فائرنگ نہیں کی، ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں کہ فوج سابق صدر مرسی کے حامیوں پر گولیاں چلا رہی ہے۔عبوری صدر کے حکم پر پیر محمد احمد فرید کو خفیہ ادارے کا نیا سربراہ بھی مقرر کر دیا گیا۔مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں میں اب تک 32 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مرسی کے سینکڑوں حامیوں نے سرکاری ٹی وی کی جانب مارچ کیا۔ اخوان المسلمون کے مرشد محمد بدیع نے مظاہرین سے خطاب کرتے کہا ہے کہ مصر کے مفادات اور شہدائے انقلاب کے خون کا سودا نہیں کریں گے مصری شہروں میں نکلنے والے عظیم الشان مظاہرے اس بات کی دلیل ہیں کہ مصری عوام اخوان المسلمون کے ساتھ ہیں میں مصر چھوڑ کر فرار ہوا نہ ہی گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مرسی حکومت فوری بحال کی جائے۔ مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کو ٹیلی فون کیا اور مصر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ مصر کی صورتحال پر محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔افریقی ممالک کی تنظیم افریقین یونین نے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصر کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین کی بحالی تک مصر تنظیم کی کسی بھی کارروائی میں شرکت نہیں کر سکے گا۔ بیان میں صدر مرسی کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا گیا اور مصر کی نئی انتظامیہ سے تمام سیاسی عناصر سے بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے پہلے کینیا کے صدر اوہورو کنیاٹا نے کہا تھا کہ جمہوری طور پر منتخب رہنما کی برطرفی افریقہ کے لئے شدید تشویشناک ہے۔ مصری حکومت نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے مصر کی حالیہ بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت دشمن اقدام قرار دیا ہے۔ امریکی فوج کے سربراہ نے مصری ہم منصب کو فون کیا ہے دونوں نے مصر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔مصر کی اسرائیلی سرحد پر دو قصبوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ جامعہ الازہر کے شیخ نے مصر میں پرتشدد کارروائیوں کو غیراسلامی قرار دیدیا ہے۔ فوج کی فائرنگ سے 6 افراد مارے گئے۔ مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کے دوران 11 افراد جبکہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک فوجی اور 5 پولیس اہلکار مارے گئے۔ دوسری مصری فوج نے کسی بھی قصبے میں کرفیو لگانے کی تردید کی ہے۔
مصر/مظاہرے