مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے‘ بھارت فوج واپس بلائے....جدہ میں یوم یکجہتی کشمیر پر سمپوزیم

جدہ (نمائندہ خصوصی) اگر مسیحی کمیونٹی چند سالوں میں مشرقی تیمور میں رائے شماری کروا سکتی ہے تو مسلم امہ کیوں نہیں کشمیر میں رائے شماری کروا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پریس قونصل محمد جمیل خان نے یوم یکجہتی کشمیر پر سمپوزیم ”مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کی ذمہ داری“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمپوزیم کا اہتمام مجلس محصورین پاکستان (PRC) نے مہران ریستوران میں کیا تھا۔ جمیل خان نے PRC کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے سمپوزیم منعقد کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ہمیں بحیثیت پاکستانی اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہے تو پھر ہمیں امت مسلمہ سے تعاون چاہئے۔ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک پر بھارتی 7لاکھ فوج بھی قابو نہ پا سکی۔ کرگل ایک عسکری غلطی تھی اور پچھلی حکومت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان پیپلز کمیونٹی کے صدر ریاض بخاری نے کہا کہ ہم اتحاد کے جذبہ سے ہی مسائل کشمیر اور محصورین حل کر سکتے ہیں۔ ایڈیٹر سعودی گزٹ سمیرہ عزیز نے تحریری پیغام میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے اور ہندوستان اپنی فوج واپس بلائے۔ پاکستان مسلم سوسائٹی کے چودھری سعید جٹ نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں مسئلہ کشمیر پر کافی پیشرفت ہوئی تھی پھر اس کے بعد کوئی کام نہ ہوا۔ انجینئر افتخار چودھری نے کہا کہ کشمیر اور محصورین کاز اصل میں ایک دینی فریضہ ہے اور اس کو ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ محمد اشفاق بدایونی نے کہا کہ ہندوستانی غاصب فوج کے خلاف لڑنا دہشت گردی نہیں بلکہ جدوجہد آزادی ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کا حصہ ہے۔ شمس الدین الطاف، گلاب خان، شیخ لقمان اور الیاس مہر نے بھی خطاب کیا۔ احسان الحق نے سمپوزیم میں شرکت پر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ OIC کو چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے عالمی رائے عامہ ہموار کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ محصورین 38 سال میں حل نہ ہونا ایک المیہ ہے اور اس میں MWL کے علاوہ OIC کو بھی کردار ادا کرنا چاہئے۔ منظور کی گئی قراردادوں میں کہا گیا کشمیر پر اقوام متحدہ کے تحت رائے شماری اور رابطہ ٹرسٹ بحال کر کے محصورین کی منتقلی و آبادکاری جلد شروع کی جائے اور اس وقت تک بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر ان کی خبرگیری کرے۔ نسیم سحر، محسن علوی، عبدالقیوم واثق، زمرد خان سیفی اور گل انور نے کشمیریوں کیلئے منظوم کلام پیش کیا۔ سمپوزیم کی نظامت مسرت خلیل، تلاوت قاری عبدالمجید اور نعت رسول زمرد سیفی نے پڑھی۔
سمپوزیم