امریکی سفارتخانے پر قبضے کی 30 ویں سالگرہ : تہران میں ہزاروں افراد کی امریکہ مخالف ریلی‘ جھڑپیں متعدد گرفتار

تہران (نیوز ایجنسیاں) تہران میں ہزاروں افراد نے امریکی سفارتخانے پر قبضے کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر ریلی نکالی‘ متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ تہران میں ہزاروں افراد نے امریکہ کے سابق سفارتخانے کی عمارت کے باہر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ مخالف نعرے درج تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل فائر کئے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ ان یونیورسٹی کے باہر بھی سینکڑوں طلباء نے امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ خوشحال مستقبل کے انتخاب کا فیصلہ ایران کو کرنا ہے۔ امریکی سفارتخانے پر حملہ کے 30 سال مکمل ہونے پر انہوں نے پیغام میں کہا ایران کیلئے فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی مذہبی رہنما آیت اللہ حسین علی منتظری نے کہا ہے کہ تیس سال قبل امریکی سفارتخانے پر ایرانی قبضہ درست اقدام نہیں تھا۔ اوباما کا کہنا تھا کہ تہران کے واقعے نے امریکی اور ایرانی عوام میں بداعتمادی اور نفرت کو ہوا دی۔ اب ایران تلخ ماضی کو بھلا کر خوشحال مستقبل کا انتخاب کرے۔ جبکہ ایران میں حزب اختلاف کے راہنما میر حسین موسوی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین پر ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس استعمال کی لاٹھی چارج بھی کیا مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے مظاہرے میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے راہنما مہدی کروبی بھی شریک ہوئے ۔ ایران کی پولیس نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ تہران میں بدھ کو امریکہ مخالف مظاہرے کے علاوہ کی اور احتجاج کی اجازت نہیں د ی جائے گی۔