نیلسن مینڈیلا ۔۔۔ موت حیات کی کشمکش میں مبتلا

افتخار احمد صدیقی  ۔۔۔۔
نیلسن مینڈیلا دنیا کی وہ مقبول سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی سفید فام حکمرانوں کیخلاف جدوجہد میں گزاری اور جنوبی افریقہ کے سیاہ فام عوام کو انکے حقوق دلانے کیلئے طویل جدوجہد کی۔ اپنی 27 سالہ طویل سیاسی مہم جوئی کے دوران وہ نصف سے زائد عرصہ جیلوں میں رہے اور وہیں سے اپنی عوام کی قیادت کرتے رہے اور آخر 1990ءمیں انکی شب و روز کی محنت رنگ لائی اور جنوبی افریقہ کے سیاہ فام عوام کو انکے حقوق مل گئے۔ نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے اور چار سال تک وہ اس عہدے پر رہے۔ 1994ءمیں صدارت کے منصب سے فارغ ہونے کے بعد نیلسن مینڈیلا نے جنوبی افریقہ کے سیاسی معاملات سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کی بجائے اپنی خدمات سماجی شعبے کی طرف منتقل کردیں اور مہلک بیماری ایڈز کے خاتمے کے سلسلے میں وہ جنوبی افریقہ کے ہائی پروفائل سفیر مقرر ہوئے۔ انہی کی جدوجہد سے جنوبی افریقہ کو 2010ءمیں فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے فرائض حاصل ہوئے۔نیلسن مینڈیلا جو آج موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور ہسپتال کے باہر انکے لاکھوں چاہنے والے انکی صحت یابی کیلئے دن رات دعائیں مانگ رہے ہیں نے پڑوسی ممالک کانگو، برونڈی اور دیگر افریقن ممالک میں امن کے سلسلے میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ 2004ءمیں 85 سال کی عمر میں مینڈیلا نے سیاسی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اپنی فیملی اور دوستوں کیساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دی۔ وہ اب اکثر اپنے دوستوں کو کہتے کہ مجھے کال نہ کرنا، بلکہ میں تمہیں کال کرونگا، انہوں نے اپنے حلقہ احباب کو اب مجھے پبلک میٹنگز میں نہ بلایا کریں کیونکہ اب میں تمام وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔ وہ گزشتہ دو سالوں سے ہسپتال میں مختلف امراض کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔نیلسن مینڈیلا 1918ءکو کیپ ٹاﺅن میں پیدا ہوئے اور شروع اوائل میں انکے انکے نک نیم ”مڈیبا“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انکو نیلسن کا نام انکے ایک سکول ٹیچر نے دیا تھا۔ انکے والد تھیمبو رائل فیملی کے کونسلر تھے اور جب نیلسن مینڈیلا صرف 9 سال کے تھے تو انکا انتقال ہوگیا تھا اور یوں انہوں نے والد کی وفات کے بعد تھیمبو قبیلے کے چیف جوگن ٹابا کے زیرنگرانی پرورش پائی۔ 1941ءمیں جب انکے قبیلے کے سردار نے انکی شادی کرنا چاہی تو نیلسن مینڈیلا گھر سے فرار ہو کر جوہانسبرگ چلے گئے۔ دو برس بعد انہوں نے وٹس واٹر یونیورسٹی میں لاءکی تعلیم حاصل کرنے کیلئے داخلہ لے لیا جہاں انکی ملاقات تقریباً ہر طبقہ فکر کے افراد سے ہوئی۔ یونیورسٹی میں دوران تعلیم صحیح معنوں میں وہ لبرل اور قوم پرست افریقی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور نسلی امتیاز کیخلاف جذبات ابھر کر سامنے آئے جو آگے چل کر انکی سیاست کا محور بنے۔ اسی سال انہوں نے سیاسی جماعت افریقن نیشنل کانگریس (ANC) میں شمولیت اختیار کرلی اور بعد میں وہ جماعت کی ذیلی تنظیم یوتھ ونگ کے بانی صدر بنے۔ 1944ءمیں انہوں نے پہلی شادی ایولن میس نامی خاتون سے شادی کی جس سے انکے چار بچے ہیں لیکن بعدازاں ان میں علیحدگی ہوگئی۔ 1952ءمیں نیلسن مینڈیلا نے پیشہ ور وکیل کے طور پر امتحان پاس کرلیا اور اولیور ٹامبو نامی وکیل کے ساتھ جوہانسبرگ میں وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔ اولیور ٹامبو کے ملکر انہوں نے نسلی امتیاز کیخلاف مہم شروع کی اور اس سسٹم کو چیلنج کیا جس میں گورے لوگ مظلوم کالوں کو اپنا غلام بنائے ہوئے تھے۔ 1956ءمیں نیلسن مینڈیلا کو بغاوت اور سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا لیکن چار سال تک عدالتوں میں مقدمات چلنے کے بعد وہ انکی بے گناہی ثابت ہوئی اور وہ رہا ہوگئے۔ 1958ءمیں نیلسن مینڈیلا نے دوسری شادی ونی کیساتھ کی جنہوں نے بعد میں نیلسن مینڈیلا کے جیل میں قید ہونے کے دوران نسلی امتیاز کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔ 1960ءمیں افریقن نیشنل کانگریس پر پابندی لگا دی گئی اور مجبوراً مینڈیلا کو انڈرگراﺅنڈ ہوجانا پڑا۔ گورے لوگوں کے مظالم کیخلاف مہم اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب 1960ءمیں 69 سیاہ فام افراد کو ایک ریلی کے دوران گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اسکے بعد مینڈیلا نے پرامن جدوجہد ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس وقت مینڈیلا افریق نیشنل کانگریس کے نائب صدر تھے۔ انہوں سفید فام معیشت کو عملی طور پر سبوتاژ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یوں بالآخر انہیں ایک بار پھر تخریب کاری، بغاوت اور فسادات کرانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ ایک بار عدالت میں تقریر کرتے ہوئے نیلسن مینڈیلا نے کہا تھا ”میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں ایک مثالی جمہوریت ہو اور جہاں تمام لوگ مل جل کر رہیں اور بغیر کسی امتیاز کے انہیں انصاف مل سکے اور مساوی حقوق حاصل ہوں۔ یہ ایک آئیڈیل معاشرہ ہوگا اور اسکی خواہش میں مرنے کیلئے بھی تیار ہوں“۔ 1964ءمیں انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ 1968ءاور 1969ءکے ایک سال کے عرصے میں نیلسن مینڈیلا کی والدہ اور بڑا بیٹا فوت ہوگئے لیکن انہیں انکی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں ملی۔ 18 سال تک روبن آئی لینڈ کی جیل میں رہنے کے بعد انہیں 1982ءمیں پولزمور کی جیل بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنی رہائی تک مقید رہے۔ نیلسن مینڈیلا اور افریقن نیشنل کانگریس کے دیگر رہنماﺅں کی قید کے دوران سیاہ فام کی نوجوان نسل نے انکی تحریک کو زندہ رکھا۔ اس دوران سینکڑوں سکول اور کالج کے طلبہ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے جنہیں مظاہروں کے دوران بدترین تشدد کے بعد مارا گیا۔1992ءمیں اپنی رہائی کے بعد نیلسن مینڈیلا نے اپنی اہلیہ ونی سے بعض ناگزیر وجوہات کے باعث علیحدگی اختیار کرلی جنہوں نے انکی قید کے دوران تحریک کو بڑے احسن انداز سے چلایا۔ دسمبر 1993ءمیں مینڈیلا کو امن کیلئے نوبل انعام ملا اور اسکے پانچ ماہ بعد نیلسن مینڈیلا بھاری اکثریت سے جنوبی افریقہ کے صدر منتخب ہوگئے۔ نیلسن مینڈیلا کیلئے پہلا چیلنج انگریز بیوروکریسی تھی، انگریزوں نے جنوبی افریقہ میں 345 سال حکومت کی تھی، ان ساڑھے تین سو سال میں انہوں نے ایک ایسا دفتری نظام بنایا تھا جسے صرف یہی لوگ چلاسکتے تھے، یہ لوگ اہل بھی تھے، سمجھدار بھی، دیانتدار بھی اور تعلیم یافتہ بھی، جبکہ انکے مقابلے میں مقامی سیاہ فام لوگ غیرتعلیم یافتہ، نااہل اور نفسیاتی لحاظ سے پسماندہ تھے۔ جنوبی افریقہ کے کالے ساڑھے تین سو سال سے انگریزوں اور انکے نظام سے لڑتے آرہے تھے، نیلسن مینڈیلا کا خیال تھا اگر ملک کے تمام اختیارات کالوں کو منتقل ہوگئے تو یہ انگریز کے نظام کو صحیح طرح چلا نہیں پائینگے اور یوں ملک تباہ ہوجائیگا جبکہ نیلسن میڈیلا جنوبی افریقہ کو کامیاب ترین ملک بنانا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے گورے افسروں کو انکی نوکریوں پر بحال رکھنے کا فیصلہ کیا، آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں یہ فیصلہ ایک ایسے شخص کیلئے کس قدر مشکل ہوگا جسے گوروں نے 27 سال قید میں رکھا تھا اور ان 27 برسوں میں قید تنہائی کے 18 سال بھی شامل تھے۔ بعدازاں صدر بننے کے بعد انکے پاس دو آپشن تھے، یہ گوروں سے جی بھر کر اپنے اور قوم کے ساتھ زیادتیوں کا بدلہ لیں، لیکن نیلسن مینڈیلا جانتے تھے اس سے انتقام کا جذبہ تو سیراب ہوجائیگا مگر ملک تباہ ہوجائیگا۔ نیلسن مینڈیلا کے پاس دوسرا آپشن عام معافی تھا، نیلسن مینڈیلا نے دوسرا آپشن قبول کرلیا اور یوں جنوبی افریقہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا۔ اپنی 80 ویں سالگرہ کے روز نیلسن مینڈیلا نے تیسری شادی گریسا میشل سے کی جو کہ موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ تھیں۔ صدارت سے فارغ ونے کے بعد بھی انہوں نے دنیا بھر کے دورے جاری رکھے اور مختلف عالمی رہنماﺅں سے ملاقاتوں کے علاوہ کانفرنسز میں شرکت کی۔ انہیں صدارت کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ سرکاری طور پر ریٹائر ہونے کے بعد انکی زیادہ تر پبلک میٹنگز کا محور مینڈیلا فاﺅنڈیشن تھی جو کہ فلاحی ادارہ ہے اور اس کیلئے فنڈ اکٹھے کرنے پر انکی توجہ مرکوز رہی۔ اپنی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے دنیا کے بزرگوں کی تنظیم قائم کی جس کا مقصد دنیا کو درپیش مشکلات اور مسائل کے حل کیلئے انکی رہنمائی کرنا تھا۔ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کی ایڈز کے باعث وفات کے بعد ایڈز کے خلاف عالمگیر مہم چلائی تاکہ دنیا کو ایڈز کے موذی مرض سے متعلق آگاہ کیا جائے۔