سر تسلیم خم نہ کیا 27 سال پس دیوار زنداں گزار دیئے

شاذیہ سعید   ....
انسانی تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسی شخصیات پیدا ہوتی رہتی ہیں ہیں جن کا نام اس فانی دنیا میں ہمیشہ کیلئے باقی رہ جاتا ہے۔ ان شخصیات میں اعلیٰ صفات کے انسان بھی ہوتے ہیں اور قبیح ترین کردار کے لوگ بھی۔ گزشتہ صدی اور خود ہمارے آپ کے زمانے میں اعلیٰ صفت انسانوں میں اتا ترک، قائدِ اعظم محمد علی جناح، مہاتما گاندھی، جان ایف کینیڈی، یاسر عرفات، باکسر محمد علی اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر ”نیلسن منڈیلا “ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ جنوبی افریقہ سفید فارم اقلیت کی طویل غلامی میں رہ چکا ہے۔ اس غلامی کے دوران سفید فارم اقلیتی قبضہ گیروں نے سیاہ فارم افریقی باشندوں کو جانوروں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ جب چاہا کسی بھی علاقے کو گھیر کر گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا تھا۔ جنوبی افریقہ کے قدرتی وسائل کو نکالنے کے لئے سیاہ فارموں سے مشقت لی جاتی لیکن حاصل ہونے والی دولت میں سے ایک پائی بھی سیاہ فارموں پر خرچ نہ کی جاتی۔ مظالم مسلسل بڑھتے رہے، ایسے میں ”نیلسن منڈیلا “نامی نوجوان نے ایک پرامن سیاسی پارٹی قائم کر کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی تحریک نے زور پکڑا تو سفید فارم نسل پرست حکمرانوں نے نیلسن منڈیلا کو رابسن آئی لینڈ کی جیل میں بند کر دیا جس سیل میں منڈیلا کو قید کیا گیا اس میں سورج کی کرن داخل نہیں ہوتی تھی، ایک چھوٹی کھڑکی تھی جس کے سامنے بھی اونچی دیوار قائم تھی کہ آسمان بھی نظر نہ آ سکے۔ فرش کے ایک کونے میں زمین پر ہی ایک معمولی کمبل بچھا کر بستر کی شکل دے دی گئی تھی، چھوٹے سٹول پر ایک برتن رکھ دیا گیا۔ چاروں طرف سے آہنی سلاخوں کی وجہ سے یہ کمرہ کم پنجرہ زیادہ لگتا تھا۔ نمی کی وجہ سے سیلن بہت زیادہ تھی، اس قید خانے کے سامنے چونے کا پہاڑ موجود تھا، نیلسن منڈیلا سمیت تمام سیاہ فارم قیدیوں کو چونا کھود کر نکالنے اور لاد کر ٹرکوں تک پہنچانے کا کام کرنا پڑتا تھا۔ اس قید خانے میں نیلسن منڈیلا کو 18 برس تک رکھا گیا بعدازاں ایک دوسرے قید خانے میں منتقل کر دیا گیا،اسطرح 27 سال نیلسن مقید رہے ۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی قید کے دوران کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی ان کا جذبہ اور تاریخی مزاحمت مغلوب انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں سفید فام حکومت کے خلاف افریقن نیشنل کانگریس کے عسکری ونگ کے سربرا ہ کے طور پر علم بغاوت بلند کیا۔ ان کو تباہی پھیلانے او ر بغاوت کے الزام میں قید کردیا گیا جس کے نتیجے میں انہوں نے ستائیس برس جیل میں کاٹے۔ جب ان کو 1990ءمیں جیل سے رہا کیا گیا تو وہ زندگی کی ستر بہاریں دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مفاہمت کی سیاست پر زور دیا اور جنوبی افریقہ میں مخلوط النسل جمہوریت لانے میں مدد دی۔ ملک کے پہلے الیکشن میں فتح کے بعد وہ 1994ء میں پانچ برس کے لئے صدر منتخب ہوگئے جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے جمہوریت کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور دنیا بھر کے حکمرانوں کو ایک قابل تقلید پیغام دیا۔ نیلسن منڈیلا نے سختی کے ساتھ ہدایت کی کہ کسی بھی سفید فارم کو نہ تو قتل کیا جائے نہ ہی جائیداد لوٹی جائے، جو سفید فارم بطور شہری رہنا چاہتا ہے امن و سلامتی کے ساتھ رہے، جو لوگ جانا چاہتے ہیں اپنی مرضی سے جائیں لیکن جنوبی افریقہ ہی کو اپنا اصل وطن سمجھیں، نیلسن منڈیلا نے اعلان کیا کہ ماضی کو بھلا دیا جائے میں ازخود سب کو معاف کرتا ہوں۔ نیلسن منڈیلا نے نہ خود کبھی کسی سے انتقام لیا نہ کسی ساتھی کو انتقام لینے دیا۔ نیلسن منڈیلا کی عمر 94 برس ہو چکی ہے آج کل سخت علیل ہیں۔ انہیں دنیا میں بڑی شہرت اور عزت نصیب ہوئی۔ انہوں نے ثابت کر دکھایا کہ انسانی عزم کے آگے قید اور آہنی زنجیریں لاچار ہو کر ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ ایک قیدی جب رہائی پاتا ہے تو صدر مملکت کے عہدہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ قیدی کا ظرف اور نیت کتنا نیک، اعلیٰ و ارفع ہے، جس ہسپتال میں نیلسن منڈیلا انتہائی نگہداشت کے بستر پر دراز ہیں اس ہسپتال کے باہر گلدستوں کا ڈھیر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ طرح طرح کی موم بتیاں 24 گھنٹے قطار در قطار فروزاں رہتی ہیں، ہر مذہب اورہر قومیت کے لوگ دعائیں مانگتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ 27 سال قید کے دکھ جھیلے لیکن آفرین ہے کہ کسی کو بھی دکھ نہ پہنچایا۔ امریکی صدر باراک اوباما اپنی فیملی کے ساتھ جنوبی افریقہ پہنچے لیکن نیلسن منڈیلا سے بسبب ان کی علالت ملاقات نہ کر سکے البتہ انہوں نے رابنسن آئی لینڈ میں واقع اس جیل کے سیل کا معائنہ کیا جہاں نیلسن منڈیلا کو 18 سال تک مقید رکھا گیا۔ اوباما دیر تک اس سیل میں ہر چیز کو گھورتے رہے بستر کے پاس کھڑے رہے آبدیدہ رہے اپنے تاثرات درج کئے۔ چونے کے اس پہاڑ کو بھی دیکھا جس سے چونا کھود کر نیلسن اپنی پیٹھ کر لاد کر ٹرک تک پہنچایا کرتے تھے۔ 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 192 اراکین کی متفقہ قرارداد کے ذریعے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہر برس نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے دن یعنی اٹھارہ جولائی کو منڈیلا ڈے منایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ قرارداد ایک ایسی شخصیت کے لئے اعزاز کی بات ہے جس کو پہلے نسلی تعصب پھیلانے اور پھر حکومت کے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا مگر اب وہی سفید فام طبقہ ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے شخصی آزادی اور برابری کا سب سے بڑا علمبردار گردانتا ہے۔جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور نوبل امن انعام یافتہ نیلسن منڈیلا کے حوالہ جات اور اقوال پر مبنی کتاب 2011ءمیںشائع ہوئی۔نیلسن منڈیلا فاو¿نڈیشن کے تحت شائع کی گئی Nelson Mandela By Himselfنامی اس کتاب میں منڈیلا کی زندگی اور ان کی اسیری کے دور سے لے کر مختلف مواقع پر ان کی جانب سے دیئے گئے2ہزارا قوال اور حوالہ جات مرتب کئے گئے ہیں۔نیلسن منڈیلا کے جیل سے اپنے خاندان کے افراد کو لکھے گئے خطوط پر مبنی کتاب ظاہر کرتی ہے کہ منڈیلا جیل میں نسل پرست انتظامیہ کے ہاتھوں اپنے خاندان کو پہنچنے والے ایذا سے کتنے پریشان اور فکرمند تھے۔