اخوان المسلمون کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانا بہت بڑی غلطی ہوگی، بی بی سی

قاہرہ (نیٹ نیوز+بی بی سی) التحریر سکوائر کا ماحول دیکھ کر ڈھائی سال پہلے کے تحریر سکوائر کی یادیں تازہ ہوگئیں۔آتش بازی مصری پرچم اٹھا کر نعرے لگاتے لوگوں کے شور اور ہجوم نے فروری 2011 کے تحریر سکوائر کی یاد تازہ کر دی جب صدر حسنی مبارک اقتدار سے بے دخل ہوئے تھے۔حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اٹھارہ دن تک ایسے مظاہرے ہوئے تھے جن کی مثال نہیں ملتی۔اس بار صدر مرسی کو ہٹانے کے لیے صرف چار دن کے مظاہرے کافی رہے۔ صدر مرسی کے ِخلاف شدید احتجاج کے بعد فوج بھی ان کے خلاف ہوگئی تھی۔ فوج کی جانب سے صدر مرسی کی برطرفی کے بعد ملک کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس عدلی منصور نے ملک کے عبوری صدر کا حلف ا±ٹھایا۔بی بی سی کے مطابق یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصر کے ان تازہ واقعات کے بعد حالات بہتر ہونگے یا پھر ملک مزید تقسیم اور تشدد کی جانب گامزن ہوگا۔مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے جب محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو انہوں نے ان غلطیوں کو نہ دہراتے ہوئے احتیاط سے کام لیا جو ان کے پیشرو نے کی تھیں۔نصر شہر میں مرسی کے حامیوں کے مظاہروں کا مخالفین کے مظاہروں سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔تاہم ان کی موجودگی اس کشیدگی کی جانب اشارہ کرتی ہے جو ابھی دور کی جانی ہے۔صدر مرسی کے حامیوں کو اچانک ہونے والی اس تبدیلی پر غم اور غصہ ہے۔ ان کے صدر کو اقتدار سے بے دخل کر کے محل سے نکال دیا گیا۔ان کے خیال میں یہ ایک فوجی بغاوت ہے جس نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔2011 کی بغاوت کے بعد یہ اخوان المسلمون سیاسی پارٹی بنانے میں کامیاب رہی اور پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔حالانکہ اخوان المسلمین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے لیکن سیاسی منظر نامہ سے اس جماعت کو نکال باہر کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔بعض تجزیہ نگار مصر میں فوجی مداخلت پر خطے میں اس طرح کے دیگر واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔گزشتہ چند دنوں میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مصر کی فوج ملک کا مضبوط ادارہ ہے اور سیکولر اقدار کی حفاظت کر کے فوج نے اپنے کردار کو مزید مضبوط بنایا ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا مصر کی فوج بغیر کسی خون خرابے کے ملک میں امن و امان بحال کر سکے گی اور آیا یہ ملک کو اس صورتِ حال سے نکالنے کے لیے ایک مضبوط جمہوری حکومت قائم کرنے کے اپنے وعدے کو نبھا سکے گی۔
مصر/بی بی سی