دہلی کے وزیراعلیٰ کا سرکاری رہائش گاہ لینے سے انکار

 نئی دہلی(آن لائن)بھارت کے دارالحکومت  نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے سرکاری رہائش گاہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے مطابق وہ سرکاری گاڑی کا استعمال جاری رکھیں گے کیونکہ یہ ضروری ہے۔ دو روز پہلے ہی بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ریاستی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔اس سے پہلے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے دہلی کے خدا داس روڑ پر واقع پانچ پانچ کمروں کے دو سرکاری فلیٹ لینے کے فیصلے کا دفاع کیا تھا اور ان کے اس فیصلے پر کافی تنقید کی گئی تھی اور معاملے پر جمعہ کو دہلی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔ ہفتہ کو وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے پارٹی کے اجلاس میں فلیٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فلیٹ لینے پر صرف حزب اختلاف نے تنقید نہیں کی۔’میرے دوست اور حامیوں مجھے فون اور پیغامات بھیج رہے ہیں کہ میں پانچ کمروں کے فلیٹ میں رہائش اختیار نہ کروں۔اس لیے میں نے یہ طے کیا ہے کہ اس فیصلے سے دستبردار ہو جاوں۔‘   وزیراعلیٰ کے بقول میں نے حکومت سے کہا ہے کہ میرے لیے چھوٹی رہائش گاہ کا انتظام کیا جائے۔اس سیاسی انقلاب کے لیے بہت سے لوگوں نے بے لوث محنت کی ہے اور میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ ان کی محنت بیکار نہ جائے۔انھوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ’ساتھیوں مجھے دو فلیٹس کی ضرورت ہے جس میں سے میں ایک کو اپنے دفتر کے لیے استعمال کر سکوں۔‘وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ’وزرائ￿  کے سرکاری گاڑیوں کیاستعمال پر تنازع صحیح نہیں ہے کیونکہ انھیں اپنے کام کے لیے سرکاری گاڑی کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ لیکن گاڑیوں پر سرخ لائٹ کا استعمال نہیں کریں گے اور ہم اپنے وعدے پر قائم رہیں گے۔ ‘وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے دو بڑے سکاری فلیٹس لینے کے فیصلے پر ان پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خاصی تنقید ہوئی تھی۔