حقوق کی آواز بلند کرنے پر زہریلا پراپیگنڈا ہو رہا ہے: الطاف قومیت پرست زبان کو لگام دیں‘ رابطہ کمیٹی

حقوق کی آواز بلند کرنے پر زہریلا پراپیگنڈا ہو رہا ہے: الطاف قومیت پرست زبان کو لگام دیں‘ رابطہ کمیٹی

لندن+ کراچی (نوائے وقت رپورٹ + این این آئی + اے این این) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی سے کشمور تک تمام حق پرست سندھی، مہاجر، پنجابی، پختون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری، گلگتی، بلتستانی سمیت تمام زبانیں بولنے والے عوام ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں اور جو عناصر سندھ کے عوام کو آپس میں لڑانے کیلئے اشتعال انگیزی کررہے ہیں اور نفرتوں پر مبنی پروپیگنڈے کر رہے ہیں وہ کسی بھی طرح صوبہ سندھ اور اسکے عوام کے دوست نہیں۔ انہوں نے یہ بات کارکنوں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے کہا کہ سندھ کی دھرتی محبتوں کی دھرتی ہے لیکن وہ عناصر جو سندھ دشمنوں کے ایجنٹ ہیں وہ حقوق کی آواز بلند کرنے پر ایم کیو ایم کیخلاف زہریلے پراپیگنڈے کر رہے ہیں اور اشتعال پھیلا رہے ہیں۔ عوام ایسے عناصر کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور انہیں بار بار مسترد کرتے آئے ہیں۔ الطا ف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم تمام مظلوموں کی تحریک ہے اور اس تحریک کی کامیابی کا پھل ہر مظلوم کھائے گا خواہ اس کا تعلق کسی بھی قومیت، رنگ، نسل، زبان، مذہب، فقہ یا مسلک سے کیوں نہ ہو۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ الطاف حسین نے سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی، وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا تھا، ہماری محبت کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کسی کو طاقت کا شوق ہے تو ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ الطاف حسین کے نام پر جان دینا اور جان لینا جانتے ہیں۔ سندھ میں آج تک کوئی اردو بولنے والا وزیر اعلیٰ نہیں بن سکا، یہ غیرتحریری آئین اور قانون بن چکا، ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی نے من پسند حلقہ بندیوں کے ذریعے ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چرانے کی ناکام سازش کی، سندھ کی تقسیم نفرت کا بیج بونے اور امتیاز رویہ رکھنے والے کر رہے ہیں، الطاف حسین نے اسکی نشاندہی کی ہے، نیا صوبہ بنانے کی تجویز نہیں دی۔ ہفتہ کو کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر فاروق ستار، ڈاکٹر خالد مقبول اور عامر خان نے کہا سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بار بار کیوں دہرانا پڑتا ہے کہ ہم سندھ کے بیٹے ہیں، ہمیں پرانے نہ صحیح نئے سندھی ہی مان لیا جائے۔ انہوں نے کہا جو حکومت سندھیوں کے درمیان منافرت پھیلا رہی ہے وہی سندھ کی تقسیم چاہتی ہے۔ ہم وزیراعظم، آرمی چیف اور ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ میں نفرت کا بیج بونے کا نوٹس لیا جائے۔ رابطہ کمیٹی کے رکن خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ الطاف حسین کے بیان پر سیاسی یتیموں اور نام نہاد قوم پرستوں نے بہت شور مچایا، اس خطاب کے بعد اندرون سندھ اردو بولنے والے سندھیوں کو دھمکی آمیز رویے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے اپنے خطاب کا آغاز اگر سے کیا تھا، سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی، وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔ خالد مقبول نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ سندھ کیساتھ محبت کی ہے اسکو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، الطاف حسین کل بھی سندھ کے سپوت تھے اور آج بھی سندھ کے سپوت ہیں، اسفند یار ولی نے کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو پاکستان ٹوٹ جائیگا اس پر تو کوئی شور نہیں مچا۔ انہوں نے کہا کہ ہم 1947ء میں بین الاقوامی معاہدے کے تحت ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ کوئی احسان جتانے کی کوشش نہ کرے۔ اس موقع پر سینئر رہنما عامر خان نے کہا کہ قوم پرست زبان کو لگام دیں کسی کو طاقت کا شوق ہے تو چوڑیاں ہم نے بھی نہیں پہن رکھیں، ہم الطاف حسین کے نام پر جان دینا اور جان لینا جانتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اردو بولنے والے سندھیوں کو ڈرانے کا عمل شروع ہوگیا۔ ارکان رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایم کیو ایم جنرل (ر) مشرف کی حمایت نہیں کر رہی تاہم صرف مشرف پر مقدمہ چلانا زہریلی عصبیت ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ تمام کارکنان اور ذمہ دار الطاف حسین کی قیادت میں متحد ہیں۔ شرجیل میمن اپنی پارٹی کی گرتی ساکھ کو سنبھالیں۔ دریں اثناء متحدہ کے رہنما نبیل گبول نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سے وضاحت مانگنے کی بجائے شاہ محمود وضاحت کریں کہ تحریک انصاف ملک اور آئین کو نہ ماننے والے طالبان کی حمایت کیوں کر رہی ہے۔